’انگلینڈ نے پاکستان کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption جہاں تک انگلینڈ کی ٹیم کا تعلق ہے وہ زبردست فارم میں میدان میں اتری ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جسے الیسٹر کُک کی قیادت میں انگلینڈ نے ابھی تک نہیں ہرایا

سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں جب دہشت گردی بھرپور جنگ کی شکل میں ڈھلنے لگی تو پاکستان کے کچھ لوگوں میں ایک عجیب اور المناک سا ردِ عمل پیدا ہوا۔ انھوں نے شکایت کرنا شروع کر دی کہ پاکستان کا مسئلہ موت اور جنگ نہیں بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں اس کا ’امیج‘ ہے۔

پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ وہ ملک نہیں جہاں آپ اس کا غیر پیچیدہ اور سادہ سا امیج پیش کر سکیں۔ یہ امیج اکثر کنفیوزنگ اور کبھی کبھی حیران کن بھی ہوتا ہے۔ پاکستان کو سمجھنے کا مطلب پاکستان کو اچھے طریقے سے جاننا ہے۔

* ’انگلینڈ فیورٹ نہیں ہے‘

* بیالیس سالہ ’نوجوان‘ مصباح الحق کی لارڈز میں سنچری

* پاکستان بمقابلہ انگلینڈ، تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اسد شفیق دن کے آخری حصے میں آؤٹ ہوئے۔ وہ سب سے بہتر کھلاڑی لگے لیکن ایسی بال پر آؤٹ ہوئے جسے وہ کئی بار کھیل چکے ہیں۔ مگر جس اعتماد سے وہ جتنا عمدہ کھیلے ہیں یہ پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے

سنہ 2010 کے دورے اور سپاٹ فکسنگ کے بحران کے بعد سے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو ایسے ہی حالات سے نبرد آزما ہونا پڑا ہے۔ دیکھنے والے ان کی تیسرے نمبر کی رینکنگ والی ٹیسٹ ٹیم کو دیکھتے ہیں اور اور بس یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس ٹیم میں کسی بھی صورتِ حال میں سنبھلنے یا خرابی سے بحالی کی طرف پلٹنے کی خوبی کمال کی ہے۔

دیکھنے والے 42 برس کے مصباح کو جن میں جذبات کا اظہار تلاش کرنے سے بھی کم ہی ملتا ہے، دیکھ کر کہتے ہیں کہ انھیں کسی بھی صورتِ حال سے سنبھلنے کا ہنر آتا ہے۔

آج ٹاس جیتنے اور بیٹنگ کا فیصلہ کرنے کے بعد ان کی اننگز دیکھ کر وہی پرانی باتیں سامنے آ گئی ہوں گی۔ وہ کافی دیر تک آسانی سے نھیں کھیل پا رہے تھے۔ کئی بار لگا کہ وہ آؤٹ ہوئے کے ہوئے لیکن وہ رنز بناتے رہے۔

اور جب انھوں نے کرکٹ کے ایک اہم سنگِ میل کو عبور کیا اور لارڈز کے میدان میں سنچری بنا ڈالی تو یوں کہیے کہ انھوں نہ ویسا ہی کام کیاجیسا کہ ان کے ملک پاکستان میں ہوا کرتا ہے یعنی ایک حیران کن کام۔

ان کی آج کی اننگز کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ پہلے ٹیسٹ کا پہلا دن پاکستان کے نام رہا۔ بہت سے لوگوں کی توجہ اس پر تھی کہ مصباح کی ٹیم ایشیا سے باہر کم ہی کھیلی ہے لیکن انھوں نے یہ نظر انداز کر دیا تھا کہ گشتہ سال کےدوران پاکستان کی مڈل آڈر بیٹنگ نے دنیا میں سب سے زیادہ رن بنائے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لارڈز کی سست رفتار وکٹ پر سبھی بلے باز آئے لیکن فضول شارٹ کھیل کر چلے گئے

لارڈز کی سست رفتار وکٹ پر سبھی بلے باز آئے لیکن فضول شارٹ کھیل کر چلے گئے۔ اظہر اور شان نے کچھ وقت گزارا۔ حفیظ اور یونس خان کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ بہت سکور کر لیں گے۔ اسد شفیق دن کے آخری حصے میں آؤٹ ہوئے۔ وہ سب سے بہتر کھلاڑی لگے لیکن ایسی بال پر آؤٹ ہوئے جسے وہ کئی بار کھیل چکے ہیں۔ مگر جس اعتماد سے وہ جتنا عمدہ کھیلے ہیں یہ پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے۔

جہاں تک انگلینڈ کی ٹیم کا تعلق ہے وہ زبردست فارم میں میدان میں اتری ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جسے الیسٹر کُک کی قیادت میں انگلینڈ نے ابھی تک نہیں ہرایا۔

لیکن جمی اینڈرسن کا ٹیم اور بولر کی خواہش سے برعکس ڈراپ ہونا انگلینڈ کی کئی غلطیوں میں سے ایک ہے۔

ایک ایسی ٹیم کے خلاف جس کے لیے یہاں کی کنڈیشنز اجنبی ہیں، انگلینڈ کے بالروں نے اکثر شارٹ بال کرائے۔ ان میں اینڈرسن والی ڈائریکشن اور کنٹرول کی کمی تھی۔ کئی موقع گنوا دیے گئے یا کیچ وہاں گرے جہاں فیلڈر کو ہونا چاہیے تھا۔ ایک رن آؤٹ بھی نہیں ہو سکا جو اگر ہوجاتا تو شاید پاکستان کی پوری ٹیم پہلے ہی دن آؤٹ ہو گئی ہوتی۔

گذشتہ سال ستمبر سے لارڈز کے میدان میں کسی فرسٹ کلاس میچ کا نتیجہ نہیں نکلا۔ لگتا ہے کہ انگلینڈ نے اپنے حریف کی طاقت کا اندازہ بھی غلط لگایا ہے۔ ان کی توجہ پاکستان کے اسی امیج پر رہی جو ان کے ذہن میں نقش لگتا ہے یعنی پاکستان کی ٹیم صرف گھر میں اچھا کھیلتی ہے۔ ہو سکتا ہے یہ درست ہو لیکن مصباح نے یہ یقینی بنا دیا کہ کم از کم میچ کے پہلے دن کی حقیقت اور امیج دونوں کا تعلق ان ہی کی ٹیم سے ہو۔

اسی بارے میں