اولڈ ٹریفرڈ میں ساون کی آس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ انگریزی میں سال کے موسموں کے نام بتائیں تو آپ کہیں گے بہار، موسم گرما، خزاں اور پھر موسم سرما۔ لیکن برصغیر میں ہم انھیں بہار، موسم گرما، ساون اور موسم سرما کے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔

ہم دیسیوں کے دلوں میں برسات کا ایک اپنا خاص مقام ہے۔ برسات کا ذکر ہمارے نغموں، شاعری، ہمارے رنگوں حتیٰ کہ ہمارے نظریہ حیات میں بھی دکھائی دیتا ہے۔

اگر پاکستان اور انگلینڈ کے میچ میں آپ کی ہمدردیاں پاکستان کے ساتھ ہیں تو یہ بارش ہی تھی جس نے ہمیں اتوار کو اولڈ ٹریفرڈ میں بچائے رکھا۔

اتوار کو کئی مرتبہ بارش کی وجہ سے کھیل روکا گیا کس کی وجہ سے کھیل معمول کے وقت سے کچھ دیر بعد تک بھی جاری رہا۔

انتہائی مشکل میں گرفتار پاکستان نے جب اننگز دوبارہ شروع کی تو مصباح کی ٹیم کی مشکلات کم نہیں ہوئیں بلکہ ان میں اضافہ ہی ہوا۔ اس کا آغاز شان مسعود سے ہوا جو کہ ایک مرتبہ پھر اپنے سب سے بڑے دشمن، جیمز اینڈرسن کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔

لارڈز کے میدان میں سب سے اچھے دکھائی دینے والے بلے باز اسد شفیق تھے لیکن انھوں نے بھی آج اپنے ساتھیوں کی طرح ایک بری شاٹ کھیل کر اپنی وکٹ گنوا دی، بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اتوار کو ہر پاکستانی بلے باز نے یہی حرکت کی۔

ان سب کے آؤٹ ہونے میں نہ تو پچ کا کوئی کردار تھا اور نہ ہی انگلش بولرز کا کوئی خاص کمال دیکھنے میں آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستانی بلے بازوں کو ڈرانے کے لیے سکور بورڈ پر لکھے ہوئے ہندسے ہی کافی تھے۔

مصباح نے کھیل کے تیسرے روز بھی حسب روایت اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا اور اپنی ٹیم کے لیے ایک اچھی مثال قائم کی۔ ایک موقع پر مصباح الحق نے خود کو اسی مقام پر پایا جس پر وہ ماضی میں کئی ایک روزہ میچوں میں کھڑے دکھائی دیے تھے۔ یعنی کریز پر کھڑے رہنے والے آخری بلے باز۔

اگر وہاب ریاض اپنے کپتان کا ساتھ نہ دیتے تو تیسرے روز پاکستان اتنے رنز بھی نہ بنا پاتا۔

پاکستان کی اننگز کے ختم ہونے پر شاید اکثر لوگ یہی سوچ رہے تھے کہ ایلسٹر کک فالو آن دیں گے، لیکن انھوں نے دوبارہ بیٹنگ کا فیصلہ کر دیا۔

شائقین کی اکثریت کا خیال تھا کہ ان کا یہ فیصلہ کمزوری کی علامت ہے لیکن تھوڑی ہی دیر بعد جب ایلسٹر کک اور ان کے ساتھی اوپنر ہیلز ن پاکستانی بولروں کی دھنائی شروع کی تو معلوم ہوا کہ دوبارہ بیٹنگ کا فیصلہ کتنا درست تھا۔

ہرگیند کے بعد پاکستانی بولروں کی بے چارگی واضح ہوتی گئی، خاص طور پر یاسر شاہ بالکل بے بس دکھائی دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایک بے جان وکٹ اور میدان کی گیلی گھاس دونوں ہی یاسر شاہ کے لیے موزوں نہیں تھے اور پھر صورتحال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب انگلش بلے بازوں نے یاسر شاہ کا خوف بھی دل سے نکال دیا۔

پاکستان کے زخموں پر کچھ مزید نمک اس وقت محمد حفیظ نے چھڑکا جب تیسرے دن کھیل کے اختتام سے کچھ پہلے انھوں نے ایک اور کیچ چھوڑ دیا۔

قصہ مختصر کہ تیسرے دن پاکستان کی مصیبت میں صرف اسی وقت کمی ہوتی جب کھیل بارش کی وجہ سے رک جاتا۔

بارش کی وجہ سے کھیل کئی مرتبہ روکنا پڑا اور اکثر کھیل اتنی دیر کے لیے رک جاتا کہ میچ کے ہار جیت کے بغیر ختم ہو جانے کی امید جاگ جاتی۔

سچ پوچھیں تو پاکستان کے لیے اس میچ میں کچھ بچا ہے تو وہ بارش کی امید ہی ہے۔

اسی بارے میں