تمام روسی ایتھلیٹس پر پابندی عائد نہیں کی: آئی او سی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈوپنگ کی تحقیقات کے بعد روس پر پابندیوں کے مطالبات کیے جا رہے ہیں

اولمپکس کی بین الاقوامی کمیٹی آئی او سی کا کہنا ہے کہ روس پر برازیل میں ہونے والے اولمپکس گیمز میں حصہ لینے پر مکمل پابندی نہیں عائد کی گئی ہے۔

انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے بقول مختلف کھیلوں کے انتظامی ادارے یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا روسی کھلاڑی ممنوعہ ادویات کا استعمال تو نہیں کرتے رہے اور اگر وہ سمجھیں روسی کھلاڑی اس میں ملوث نہیں ہیں تو وہ ان کو اولمپکس میں حصہ لینے کی اجازت دے سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ روسی حکومت کی سربراہی میں کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کی ادویات فراہم کرنے کے شواہد سامنے آنے کے بعد روسی ایتھلیٹس پر اولمپکس میں شرکت پر پابندی کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔

فیصلے کے خلاف روس کی جانب سے کھیلوں کی عدالت میں اپیل دائر کی گئی تھی تاہم عدالت نے روسی ایتھلیٹس پر پابندی کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

اس مرتبہ اولمپکس مقابلوں کا انعقاد برازیل میں ہو رہا ہے اور یہ مقابلے 5 اگست سے شروع ہوں گے۔

تاہم انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے مطابق جو روسی کھلاڑی ماضی میں ممنوعہ ادویات کا استعمال کرتے پائے گئے ہیں ان پر پابندی برقرار رہے گی۔

اس سے قبل عالمی انسداد ڈوپنگ ایجنسی نے کہا تھا کہ روسی حکومت کی سربراہی میں کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کی ادویات فراہم کرنے کے شواہد سامنے آنے کے بعد روس پر اولمپکس میں شرکت پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔

ڈوپنگ ایجنسی کی ایک رپورٹ میں یہ امر سامنے آیا تھا کہ 2011 سے 2015 کے عرصے میں موسم سرما اور موسم گرما کی اولمپکس کے دوران روسی کھیلوں کی کمیٹی نے اپنے کھلاڑیوں کے پیشاب کے نمونوں میں ہیرا پھیری ’کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی کی۔‘

رپورٹ کے مطابق روس نے سوچی میں منعقد ہونے والے سنہ 2014 کی موسم سرما کے اولمپکس کھیلوں میں کھلاڑیوں کی مدد کرنے کے لیے ڈوپنگ پروگرام جاری کیا تھا۔

اسی بارے میں