پاکستان کو خود پر عدم اعتماد لے ڈوبا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انگلینڈ نے پاکستان کو 330 رنز سے شکست دے کر چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر کر دی ہے

دوسرے ٹیسٹ میچ میں اپنی ٹیم کی شکست کے بعد پاکستانی کرکٹ کے شائقین یقیناً خود کو ایک تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے بچ نکلنے والے فرد سا محسوس کر رہے ہوں گے۔ وہ ملبہ جس میں ہماری وہ بولنگ دفن ہوئی جس کی تعریف میں لوگ رطب السان تھے۔ یہیں ہمارا وہ ٹاپ آرڈر دفن ہے جسے خود پر عدم اعتماد لے ڈوبا اور ساتھ ہی وہ کیچ جو ہم نے چھوڑے اور جن میں سے ہر ایک ہمارے دل پر ایک براہِ راست وار تھا۔

٭دوسرا ٹیسٹ انگلینڈ کا، پاکستانی بیٹنگ ناکام

٭پاکستان اور انگلینڈ کے مابین دوسرے ٹیسٹ کی تصویری جھلکیاں

انگلینڈ سے ان کی سرزمین پر اتنے بڑے فرق سے شکست کھانا تاہم کوئی عجب بات نہیں۔ اس صدی کے دوران انگلش ٹیم اپنے گھر میں مخالفین کو عبرتناک شکست دیتی رہی ہے۔ ان میں سے کچھ ایسی شکستوں کے بعد مزید خراب کھیلے اور کچھ نے ہمت نہ ہاری اور منہ توڑ جواب دیا۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کا ارادہ کیا ہے؟

اس شکست کے بعد ٹیم میں تبدیلی کی بات ہو سکتی ہے، چاہے وہ ایک اور بولر کو کھلانے کی بات ہو یا اوپنرز بدلنے کی۔ مگر میرے خیال میں یہ تبدیلیاں بےوقوفی ہوں گی۔

یہ میدان میں اتاری جانے والی بہترین پاکستانی ٹیم ہے جسے اب اعتماد درکار ہے کیونکہ ٹیم میں اس کی ہی کمی ہے۔ اس کے بولر اولڈ ٹریفرڈ کی پچ کے باؤنس کو سمجھنے میں ناکام رہے اور نتیجہ ان کی لینتھ میں دکھائی دیا۔ بلے بازوں کے لیے بھی باؤنس مشکلات لایا اور وہ گھومتی گیند سے زیادہ اٹھتی ہوئی گیندوں کا شکار بنے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption محمد حفیظ کو 42 کے انفرادی سکور پر معین علی نے آؤٹ کیا جبکہ مصباح الحق 35 رنز بنا کر ووکس کی گیند پر بولڈ ہوگئے

لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ مصباح الیون نے اپنی سب سے بڑی طاقت یعنی صبر کا استعمال نہیں کیا۔ اگر اس ٹیم کے خلاف کوئی بھی ٹیم چار رنز فی اوور کی اوسط سے سکور کرے، تو وہ ایک لحاظ سے میچ جیت ہی چکے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے کریڈٹ الیسٹر کک اور جو روٹ کو جاتا ہے جنھوں نے نہ صرف شاندار بلے بازی کی بلکہ مخالف ٹیم کو غلطیوں پر مجبور بھی کیا۔

ان کی کارکردگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی بلے باز ہمیشہ سکور کارڈ سے خوفزدہ ہو کر ہی کھیلتے رہے اور یہ ان کے آؤٹ ہونے کے انداز سے بھی صاف نظر آتا تھا۔ انگلش ٹیم اپنے مخالفین کا دم گھوٹنے میں کامیاب رہی اور اس نے پاکستان کو شکست کا وہی ذائقہ چکھا دیا جو خود اس نے لارڈز میں چکھا تھا۔

دیکھا جائے تو زیادہ تر پاکستانی مداحوں کے لیے دو ٹیسٹ میچوں کے بعد سیریز کی ایک ایک سے برابری ہی متوقع سکور لائن تھی۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ آخری ٹیسٹ میچ اوول میں ہے جہاں کی پچ ان کی ٹیم کی صلاحیتوں سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔

لیکن یہ لازم ہے کہ پاکستانی ٹیم برمنگھم میں اگلے میچ سے قبل اپنی بنیادی غلطیوں کو سدھارے۔ یہ ایسی ٹیم نہیں جو تباہ ہو چکی ہے اگرچہ وہ ایسا محسوس ضرور کر رہی ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کپتان ایلسٹر کک نے فالو آن کے باوجود پاکستان کو دوبارہ کھیلنے کی دعوت دینے کے بجائے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا

حقیقت یہ ہے کہ لارڈز میں ایک ڈرامائی فتح کے بعد اولڈ ٹریفرڈ کی شکست وہ سچائی ہے جس کا سامنا پاکستانی ٹیم کو پہلے کر لینا چاہیے تھا۔

انگلینڈ اپنی سرزمین پر ایک مضبوط ٹیم ہے اور پاکستان کے خلاف گذشتہ سات میں سے چھ ٹیسٹ میچوں میں شکست کے بعد وہ اب رکنے والی نہیں۔

لیکن پاکستانی ٹیم کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس میں وہ صلاحیت اور مہارت ہے جس کی مدد سے وہ انگلینڈ کو منہ توڑ جواب دے سکتی ہے۔

اسی بارے میں