’بچو کرکٹر بننا ہے تو پولیو سے بچاؤ کے قطرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption پولیو مہم کے سلسلے میں بنائے جانے والے اشتہار کی چند تصاویر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بڑی تعداد میں شائع کی گئیں

افغانستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے اس بار افغان کرکٹر ایک منفرد انداز میں ملک میں مہم چلاتے ہوئے دکھائی دیے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف نے افغانستان میں پولیو کی آگاہی مہم کے سلسلے میں ایک اشتہار بنایا ہے جس میں بعض افغان کرکٹرز کو شامل کیا گیا ہے۔

اس اشتہار میں افغان کرکٹر سمیع اللہ شنواری اور گلبدین نائب نے حصہ لیا ہے۔

افغانستان کی کرکٹ ٹیم اس وقت آئی سی سی انٹرکانٹینٹل کپ کے سلسلے میں ہالینڈ میں ہے جہاں وہ 29 جولائی کو اپنا پہلا میچ ہالینڈ کے خلاف کھیلے گی۔

ہالینڈ سے سمیع اللہ شنواری اور گلبدین نائب نے بی بی سی اردو سروس کو اپنے اس تجربے کے بارے میں بتایا۔

سمیع اللہ شنواری اور گلبدین نائب کا کہنا تھا کہ’یہ ہمارے لیے ایک زبردست تجربہ تھا کیونکہ ہم یونیسف کی جانب سے بنائے گئے اس بہترین اشتہار کے ذریعے افغانستان سے پولیو کے خاتمے میں مدد کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغان کرکٹرز پہلے ہی اپنے منفرد انداز میں جشن منانے کے حوالے سے مشہور ہیں

انھوں نے بتایا کہ ’ہم اس تشہیری مہم سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ رمضان کے مہینے اور شدید گرمی میں پانچ گھنٹے بھاگنے کے بعد اس اشتہار کو ریکارڈ کیا گیا۔‘

پولیو آگاہی مہم کے سلسلے میں بنائے گئے اس اشتہار میں بعض افغان کرکٹرز کو ایک ایسے بچے کے پیچھے بھاگتے دکھایا گیا ہے جو پولیو کے قطرے نہیں پینا چاہتا۔

اس اشتہار میں گلبدین نائب کو یہ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ ’اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے ہماری طرح ہوں تو انھیں پولیو کے دو قطرے پلانا نہ بھولیں۔‘

دوسری جانب افغانستان کرکٹ بورڈ کی ویب سائٹ پر بھی ایسا ہی اشتہار شائع کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’بچوں کے لیے متحد ہو جائیں۔‘

افغان کرکٹرز پہلے ہی اپنے منفرد انداز میں جشن منانے کے حوالے سے مشہور ہیں، لیکن اس مرتبہ پولیو مہم کے سلسلے میں بنائے جانے والے اشتہار کی چند تصاویر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر آنے کے بعد ان کے مداحوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

ان کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ ’ہر کھلاڑی امن اور صحت کے لیے کام کرنے کو پسند کرتا ہے۔ افغانستان میں لوگ کھلاڑیوں کو پسند کرتے ہیں اور ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس لیے کھلاڑی ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس اشتہار میں سمیع اللہ شنواری کے ساتھ گلبدین نائب نے حصہ لیا

انھوں نے مزید کہا کہ ’افغان کرکٹ بورڈ اور یونیسف کی مدد سے ہمیں انسداد پولیو مہم چلانے اور اس پیغام کو پھیلانے میں مدد ملی ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود پاکستان میں پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ ایسی ہی مہم چلانے کے لیے آئیں گے؟

تو ان کا کہنا تھا کہ’پولیو فری ایشیا کے لیے افغانستان اور پاکستان سے پولیو کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔‘

’پولیو افغانستان اور پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، ہم پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ضرور پولیو مہم یا ایسا ہی اشتہار ریکارڈ کروانا چاہیں گے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کا اپنے ملک کے کرکٹ بورڈ سے معاہدہ ہے اس لیے ان کی تمام تر سرگرمیاں افغانستان کرکٹ بورڈ کی پالیسی کے مطابق ہوں گی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں بھی پولیو کا وائرس اب تک موجود ہے اور ہر برس درجنوں بچے اس مرض کی وجہ سے معذور ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں