شام کی پناہ گزین تیراک کا خواب

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی ہم پیروی نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی ان کی پیش قدمی کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم ان کے کرداروں میں رہتے ہوئے جدوجہد بھی کرنا چاہتے ہیں۔ انھی لوگوں سے ہی ہم سیکھتے کہ کیسے بدترین انسانیت سے بہترین کو باہر لایا جا سکتا ہے۔

شام سے تعلق رکھنے والی نوجوان یسریٰ ماردینی بھی اپنے دوستوں کے ہمراہ گھومتی پھرتی اور سمارٹ فون استعمال کرتی تھیں۔

* ریو اولمپکس کے لیے پناہ گزینوں کی ٹیم

* جرمن میدانوں میں ایشیائی پناہ گزینوں کی کرکٹ

یسریٰ شام میں اپنے والدین اور تین بہنوں کے ساتھ رہتی تھیں۔ وہ باقاعدگی سے جمناسٹک کلب جاتی اور تیراکی سے محبت کرتی تھیں۔ وہ ممکنہ طور پر ایک بڑی تیراک بن سکتی تھیں کہ شام کی خانہ جنگی شروع ہو گئی۔

شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد خوشگوار گپوں کا زمانہ ختم ہو گیا اور اس کی جگہ تشدد نے لے لی جو بڑھتے بڑھتے چار سالوں تک پھیل گیا۔

Image caption ان کا مستقبل مسلح سمگلروں کے ہاتھوں میں تھا جنھوں نے ایک کمزور کشتی کے ذریعے انھیں بحیرۂ روم کے راستے یونان پہچانا تھا

یسریٰ ماردینی زندہ تو تھیں لیکن زندگی جی نہیں رہی تھیں۔ شام میں ان کا مکان بمباری کی زد میں آ کر تباہ ہو گیا جس کی وجہ سے انھیں اور ان کے خاندان کو مجبوراً دوسری جگہ منتقل ہونا پڑا۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں واقع وہ سوئمنگ پول جہاں وہ ٹریننگ لیتی تھیں اس کی چھت بمباری سے تباہ ہو گئی۔ وہ پانی کو دیکھ سکتی تھیں لیکن اس میں تیر نہیں سکتی تھیں۔

18 سالہ ماردینی کا کہنا ہے کہ انھیں ایسے فٹبالرز کے بارے میں پتہ تھا جو حملے میں ہلاک ہو گئے تھے اور وہ یہ سب کچھ دیکھ نہیں سکتی تھیں۔

یسریٰ کے پاس صرف دو راستے تھے۔ وہ امید کے بغیر اپنے وطن میں ہی موجود رہیں یا پھر اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے وہاں سے بھاگ جائیں۔

یسریٰ نے بتایا ’ میں شاید راستے میں ہی مر جاتی کیونکہ میں اپنے ہی ملک میں تقریباً مر چکی تھی اور کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔‘

12 اگست سنہ 2015 کو شام کی خانہ جنگی کو شروع ہوئے ساڑھے چار سال ہو چکے تھے اور یہی وہ دن تھا جب یسریٰ نے اپنی سب سے بڑی بہن سارہ اور اپنے والد کے دو رشتہ داروں اور دوسرے تارکین وطن کے ہمراہ شام کو چھوڑ دیا۔

یسریٰ نے اپنے والدین اور چھوٹی بہن کو الوداع کہا اور بیروت کی جانب بھاگ گئیں جو ان کے 25 روز سفر کی پہلی منزل تھی۔

Image caption یسریٰ کے پاس صرف دو راستے تھے۔ وہ امید کے بغیر اپنے وطن میں ہی موجود رہیں یا پھر اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے وہاں سے بھاگ جائیں

یسریٰ نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا ’یقیناً میں اپنی اور اپنی بہن کی زندگی کے بارے میں خوفزدہ تھی۔ میں اس بارے میں بھی خوفزدہ تھی کہ کیا میں ایسا کر پاؤں گی۔ میری بہن کا کیا ہو گا یا پھر ہم دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ کیا ہو گا یا پھر ماں کے ساتھ کیا ہو گا۔؟‘

ان بڑھتے خدشات کے ساتھ ساتھ یسریٰ ترکی کے جنوبی حصے پہنچ گئیں۔ یہاں یسریٰ نے جنگل میں چار راتیں بسر کیں۔ ان کے پاس کھانے اور پینے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ ان کا مستقبل مسلح سمگلروں کے ہاتھوں میں تھا جنھوں نے ایک کمزور کشتی کے ذریعے انھیں بحیرۂ روم کے راستے یونان پہچانا تھا۔

دونوں بہنیں اس کشتی کے ذریعے گہرے پانی میں پہنچ چکی تھی۔ سمندر کی لہریں انھیں زیر کر رہی تھیں۔ سمندر کا نمکین پانی ان کی آنکھوں کو جلا رہا تھا۔ ہر لمحہ ایک جدوجہد تھی۔ تیراکی نے ایک دن ان کی زندگی کو تبدیل کرنا ہو گا لیکن اب انھیں بچانا ہوگا۔

ان کے سفر کو ابھی 30 منٹ ہی گذرے تھے جب ان کی کشتی کا انجن لیبوس کے جزائر پر جا کر بند ہو گیا۔ اس کشتی پر چھ یا سات افراد کے سوار ہونے کی گنجائش تھی تاہم اس میں 20 افراد سوار تھے۔ صورتِ حال خطرناک ہو گئی تھی۔ کشتی کا وزن ہلکا کرنا ضروری تھا دوسری صورت میں اس کے الٹ جانے کا خطرہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برلن میں موجود ماردینی کی ٹریننگ جاری ہے اور اس میں دن بہ دن بہتری آ رہی ہے

یسریٰ کا اس صورتِ حال کے بارے میں کہنا تھا ’میں نے سوچا کہ یہ بات لیے میرے لیے باعث شرم ہو گی کہ میں سمندر میں ڈوب جاؤں کیونکہ میں ایک تیراک تھی اور تین سال کی عمر سے تیراکی سیکھ رہی تھی۔‘

کشتی پر موجود چند پناہ گزینوں نے سمندر میں چھلانگ لگا تھی۔ یسریٰ کی بہن سارہ نے سمندر میں چھلانگ لگائی اور اس کے بعد یسریٰ نے اپنی بہن کی خواہش کے برخلاف سمندر میں کود گئیں۔ اگلے ساڑھے تین گھنٹے تک وہ اور ایک اور نوجوان خاتون نے ٹوٹی ہوئی کشتی کو ایک جانب سے لٹکتی ہوئی رسی سے کنارے تک کھینچا۔

اسی جدوجہد کے دوران وہ یونان پہچنے میں کامیاب ہو گئیں۔ ان پناہ گزینوں کی اگلی منزل جرمنی کا ملک تھا جو وہاں سے 1,000 میل کے فاصلے پر تھا چنانچہ ان کا سفر چلتا رہا۔ یسریٰ نے یونان سے میسیڈونیا، سربیا، ہنگری اور آسٹریا کا سفر پیدل، ٹرین اور بس کے ذریعے طے کیا۔ 25 دن کے طویل اور پر خطر سفر کے بعد یسریٰ آخر کار اپنی مننرل جرمنی پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں۔

یسریٰ ماردینی کا جرمنی میں پہلا گھر ایک عارضی مہاجر کیمپ تھا اور اس اجنبی ملک میں ان کا پہلا سوال قریبی سوئمنگ پول کی تلاش تھی۔

Image caption یسریٰ ماردینی کا جرمنی میں پہلا گھر ایک عارضی مہاجر کیمپ تھا

جرمنی میں موجود ایک مصری مترجم نے دونوں بہنوں کو برلن کے ایک پرانے سوئمنگ پول تک رسائی دلائی۔ اس بارے میں یسریٰ کا کہنا تھا کہ اس سوئمنگ پول کے منتظمین نے ہماری تکنیک دیکھی اور ہمیں مزید ٹریننگ دینے کے لیے راضی ہو گئے۔

ماردینی کے کوچ نے چار ہفتوں کی ٹریننگ کے بعد ٹوکیو میں سنہ 2020 میں منعقد ہونے والے اولمپکس میں شرکت کرنے کا منصوبہ بنایا تاہم انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے رواں برس مارچ میں اعلان کیا کہ اس بار ریو اولمپکس میں پناہ گزینوں کی ایک ٹیم بھی حصہ لے گی جس نے پوری دنیا کے پناہ گزینوں کے لیے ایک نئی امید پیدا کر دی۔

برلن میں موجود ماردینی کی ٹریننگ جاری ہے اور اس میں دن بہ دن بہتری آ رہی ہے۔ ماردینی کی شدید خواہش ہے کہ انھیں ریو اولمپکس میں پناہ گزینوں کی ٹیم کے لیے شارٹ لسٹ کر لیا جائے۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے رواں برس مارچ میں ماردینی کو پناہ گزینوں کی 43 ارکان پر مشمتل ٹیم میں شامل کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد جاپان، امریکہ اور یورپ سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے ماردینی کا انٹرویو لینے کے لیے ان کے کوچ سے رابطہ شروع کیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب ماردینی کے کوچ کو اپنا موبائل فون فریج میں پھیکنا پڑ گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جرمنی کا ایلیٹ سپورٹس سکول سسٹم ماردینی کی حمایت کر رہا ہے

ریو اولمپکس شروع ہونے سے دو ماہ پہلے ماردینی کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سےایک ای میل موصول ہوئی۔ ماردینی کے ذہن میں بے شمار سوالات آنے شروع ہو گئے، ان کی آنکھیں پھیل گئیں۔ کیا یہ ان کی زندگی کا بہترین موقع ہے یا پھر بکھرا ہوا خواب۔ ماردینی نے ای میل پر کلک کیا، اسے پڑھنا شروع کیا اور پھر ساتھ ہی اچھلنا شروع کر دیا۔

جرمنی کا ایلیٹ سپورٹس سکول سسٹم ماردینی کی حمایت کر رہا ہے۔ وہ اپنے سکول کے قریب واقع اولمپک سٹینڈرڈ پول میں دن میں دو بار ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں۔ ماردینی کی بھرپور ٹریننگ جاری ہے۔ وہ صبح چھ بجے ٹریننگ کے لیے جاتی ہیں اور رات کو آٹھ بجے واپس آتی ہیں۔

ماردینی کے کوچ کا ماردینی کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ پوری توجہ سے ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں۔ ان کے والد برلن میں اپنی بیٹی کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی اپنی خواب کے ساتھ جی رہی ہے۔

ماردینی کے بقول ’پانی میں ایک مختلف زندگی ہے۔ آپ کو اپنے تمام مسائل کو باہر پھینکنا ہوتا ہے اور یہ میرے لیے ایک مختلف دنیا ہے۔‘

سوئمنگ ان کی زندگی ہے کے بارے میں پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں ماردینی کا کہنا ہے ’ میرے لیے یہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ میرا شوق ہے، یہ میری زندگی ہے۔ آپ اسے بیان نہیں کر سکتے۔ یہ میری زندگی کی سب سے قیمتی چیز ہے۔ یہ میرے دل میں ہے اور میں اس سے کچھ حاصل کرنا چاہتی ہوں۔‘

اسی بارے میں