ایجبیسٹن کی بیٹنگ وکٹ پر ٹاس بےحد اہمیت کا حامل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستانی ٹیم کا سب سے بڑا دردِ سر یہ ہے کہ اس کے پاس صرف چار بولر ہیں

پاکستان نے لارڈز کے میدان میں جب انگلستان کو شکست دی تو توقعات کا پارا خاصا چڑھ گیا۔

خاص طور پر دورے سے قبل کاکول میں فوج کی زیرِ نگرانی تربیت کو بہت سراہا گیا۔ اس کا اعتراف مصباح الحق نے پہلی اننگز میں سینچری بنانے کے بعد ڈنڈ لگا کر کیا۔

* ’کُک اور روٹ کے لیے حکمت عملی میں تبدیلی‘

* ’پاکستانی ٹیم ضرورت سے زیادہ پراعتماد تھی‘

جب میچ پاکستان کی جیت پر ختم ہوا تو پوری ٹیم نے اپنے کپتان کی پیروی میں ڈنڈ لگائے اور فتح کے بعد مشترکہ ڈنڈ لگا کر ویسٹ انڈیز کے انوکھے انداز میں جشن منانے کی روایت کو آگے بڑھایا۔

لیکن جیسے مصباح پہلی اننگز میں سینچری بنانے کے بعد دوسری اننگز میں صفر پر آؤٹ ہو گئے، ویسے ہی ٹیم بھی پہلے میچ میں شاندار کارکردگی دکھانے کے بعد اولڈ ٹریفرڈ میں دوسرے میچ میں مکمل طور پر ٹھس ہو گئی۔

سوشل میڈیا پر ٹیم کی کارکردگی پر خاصی تنقید ہوئی۔

پاکستانی ٹیم کی انتظامیہ بھی جوش میں آ گئی اور اس نے بھی بیان داغ دیا کہ آئندہ سے کوئی میدان میں ڈنڈ نہ لگائے۔

اب آج ایجبیسٹن میں دونوں ٹیمیں مدِ مقابل ہیں۔ سیریز ایک ایک میچ سے برابر ہے، لیکن اس کے باوجود پلڑا واضح طور پر انگلستان کے حق میں جھکا نظر آتا ہے۔ اسی میدان پر اس نے اپنے پچھلے پانچ میں سے تین میچوں میں بھاری مارجن سے فتح حاصل کی ہے۔

Image caption ظہیر عباس نے ایجبیسٹن کے میدان پر 1971 میں 274 رنز کی یادگار اننگز کھیلی تھی

توقع کی جا رہی ہے کہ ایجبیسٹن کی بیٹنگ وکٹ پر ٹاس ایک بار پھر بےحد اہمیت کا حامل ہو گا۔ جو ٹیم ٹاس جیت کر پہلی اننگز میں بڑا سکور کھڑا کر دے گی، میدان اسی کے ہاتھ رہے گا۔

پاکستان کا مسئلہ ایک بار پھر وہی ہے جو کہ تھا، یعنی اس کے پاس صرف چار بولر ہیں۔ اگر اولڈ ٹریفرڈ کی طرح یہاں بھی یاسر شاہ نہ چلے تو پھر انگلستان کے رن اگلتے بلے بازوں کے آگے بند باندھنا مشکل ہو جائے گا۔

دوسری طرف اس میچ میں انگلستان آل راؤنڈر بین سٹوکس کی خدمات سے محروم رہے گا، لیکن کرس ووکس اپنی تباہ کن بولنگ سے ان کی کمی بڑی حد تک پوری کر رہے ہیں۔ وہ اب تک صرف دو میچوں میں 18 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ اس میچ کے سٹوکس کی جگہ سٹیون فن کو موقع دیا گیا ہے جو اپنی دراز قامتی سے پاکستان بلے بازوں کو مشکلات کا شکار کر سکتے ہیں۔

ووکس کے علاوہ انگلستان کے سکواڈ میں جیمز اینڈرسن اور سٹیورٹ براڈ جیسے خطرناک بولر موجود ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس وقت وہ آئی سی سی کی ٹیسٹ بولروں کی رینکنگ میں علی الترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر براجمان ہیں۔

اس کے مقابلے پر پاکستان کی بولنگ اکہری نظر آتی ہے۔

سابق کپتان ظہیر عباس نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو اس میچ میں دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر کی ضرورت ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کے اکلوتے فاسٹ بولر عمران خان اب تک دو میچوں کچھ خاص متاثر کن کارکردگی نہیں دکھا سکے، اور ووسٹر شائر کے خلاف تربیتی میچ میں بھی 19 اووروں میں وہ صرف ایک وکٹ لے پائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد حفیظ کی بولنگ پر پابندی پاکستان کے بڑا دردِ سر ہے

پاکستانی ٹیم کا سب سے بڑا دردِ سر یہ ہے کہ اس کے پاس صرف چار بولر ہیں، اگر ان میں سے ایک بولر لڑکھڑا جاتا ہے تو بقیہ تین پر دباؤ میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ محمد حفیظ پر پابندی نے مشکلات میں اضافہ کیا ہے ورنہ وہ اپنی نپی تلی موثر آف سپن سے انگلستان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے تھے۔

محمد حفیظ کی بولنگ کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں، اور توقع ہے کہ وہ اس سلسلے میں جلد ہی ٹیسٹ میں حصہ لیں گے، لیکن اگر ان پر سے پابندی ہٹ بھی گئی تب بھی اس کا فائدہ ایک روزہ میچوں ہی میں ہو سکے گا۔

پاکستان اوپنروں کا دائمی معمہ ایک بار پھر سر پر کھڑا ہے۔ اب تک چار اننگز میں محمد حفیظ اور شان مسعود مشترکہ طور 38 اور آٹھ اور 27 اور سات رنز جوڑ پائے ہیں، اور ان کی اوسط صرف 20 رنز فی اننگز بنتی ہے۔

چنانچہ کہا جا رہا ہے کہ اوپنروں کی جوڑی بدل کر سمیع اسلم کو موقع دیا جائے، تاہم وہ تربیتی میچ میں متاثر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور صرف 17 رنز بن کر آؤٹ ہو گئے، جب کہ شان مسعود نے 67 رنز بنا کر سلیکٹروں کو سر کھجانے پر مجبور کر دیا ہے۔

اسی بارے میں