’سمیع اسلم کو رن آؤٹ کروانے کا دکھ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اظہر علی میچ کی آخری گیند پر کرس ووکس کا نشانہ بن گئے

ایجبیسٹن ٹیسٹ میں 139 رنز کی شاندار اننگز کے باوجود میچ کے اختتام پر پاکستانی بلےباز اظہر علی کے دل میں دو کانٹے چبھے رہے۔ ایک تو آخری گیند پر آؤٹ ہو جانا، اور دوسرا نئے کھلاڑی سمیع اسلم کے رن آؤٹ کروا دینا۔

انھوں نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’وہ نوجوان کھلاڑی ہیں، لیکن جس طرح سے انھوں نے بیٹنگ کی اسے دیکھنا بہت زبردست تھا۔ بدقسمتی سے میں نے انھیں رن آؤٹ کروا دیا۔ یہ ایک اور بوجھ تھا جو مجھے اپنی اننگز میں برداشت کرنا پڑا۔‘

یہ بائیں ہاتھ سے بلےبازی کرنے والے 20 سالہ سمیع اسلم کا دوسرا ٹیسٹ میچ ہے جنھیں پہلے دو میچوں میں ناکام ہونے والے شان مسعود پر ترجیح دے کر اس میچ میں شامل کیا گیا تھا۔

انھوں نے اس موقعے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے 176 گیندوں پر 82 رنز کی نپی تلی اننگز کھیلی۔ تاہم اظہر علی نے ایک گیند پوائنٹ کی جانب کھیل کر سمیع اسلم کو رن بنانے کی کال دی، حالانکہ وہاں رن بنانے کا موقع نہیں تھا۔ سمیع نے کوشش کی لیکن ونس کی عمدہ تھرو سیدھی وکٹوں کو جا لگی اور سمیع خاصے فاصلے سے رن آؤٹ ہو گئے۔

اگر وہ یہ سینچری سکور کر لیتے تو وہ انگلستان میں سینچری بنانے والے کم عمر ترین اوپنر بن جاتے۔

اظہر علی نے کہا: ’جب وہ آؤٹ ہوئے تو ہم دونوں بڑا اچھا کھیل رہے تھے اور ہمارے پاس مزید لمبی اننگز جاری رکھنے کا موقع تھا۔ ایسی چیزیں ہو جاتی ہیں، لیکن مجھے اس لیے زیادہ دکھ ہے کہ وہ نوجوان کھلاڑی ہیں، اور سینچری بنانے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔

’میں نے پوری کوشش کی اور میرا خیال ہے کہ سمیع اسلم نے بھی بہت اچھی اننگز کھیلی، جس کا مجھے بھی بہت فائدہ ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اگر سمیع اسلم سینچری سکور کر لیتے تو وہ انگلستان میں سینچری بنانے والے کم عمر ترین اوپنر بن جاتے

دوسرا کانٹا اظہر علی کا میچ کی آخری گیند پر آؤٹ ہو جانا تھا۔ اس کے بارے میں انھوں نے کہا: ’آخری گیند پر آؤٹ ہو جانا میرے لیے بہت مایوس کن تھا، لیکن پھر بھی ملک سے باہر سکور کرنا ہمیشہ خوش گوار ہوتا ہے۔‘

ایجبیسٹن میں جاری تیسرے ٹیسٹ کے دوسرے روز اظہر علی وکٹ پر 381 منٹ تک ڈٹے رہے اور اپنی اننگز کے دوران انھوں نے 293 گیندوں کا سامنا کیا۔ لیکن میچ کی آخری گیند پر وہ کرس ووکس کی باہر جاتی ہوئی گیند پر شاٹ کھیلنے کی کوشش میں سلپ میں الیسٹر کک کو کیچ تھما بیٹھے۔

’اگر میں ناٹ آؤٹ واپس آتا تو اچھا ہوتا، اور صرف دو کھلاڑی آؤٹ ہونے پر ٹیم کو نفسیاتی فائدہ ہوتا، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔

’برطانوی حالات میں آپ ہر وقت امتحان کی زد میں ہوتے ہیں، خاص طور برطانوی بولنگ کے سامنے، جو آج بھی شاندار رہی۔ آپ کو رنز بنانے کے لیے سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔

اسی بارے میں