انگلش ٹیم نے پاکستان کے خلاف برتری حاصل کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایلسٹر کک نے پانچ چوکوں کی مدد سے اپنی نصف سنچری سکور کی

برمنگھم میں کھیلے جانے والے تیسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کھیل کے اختتام پر انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں 120 رنز بنا لیے تھے اور اسے 17 رنز کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔

جمعے کو جب تیسرے دن کے کھیل کا اختتام ہوا تو انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں بغیر کسی وکٹ کے نقصان پر 120 رنز بنا لیے تھے۔

کھیل کے اختتام پر ایلسٹر کک 64 اور ایلکس ہیلز 50 رنز پر کھیل رہے تھے۔

٭ میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

٭ ’انگلینڈ کو ایک اور لمبے دن کا سامنا ہو سکتا ہے‘

٭ پہلے دن کا کھیل، آرٹ فلم یا فارمولا؟

پاکستان کی جانب سے کوئی بھی بولر انگلش بلے بازوں کی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کرس ووکس ایک بار پھر انگلینڈ کے سب سے کامیاب بولر رہے

انگلش ٹیم کے کپتان ایلسٹر کک نے 67 گیندوں پر پانچ چوکوں کی مدد سے اپنی نصف سنچری سکور کی۔ جبکہ ایلکس ہیلز جو کہ اس سیریز میں اب تک کوئی بڑی اننگز نہیں کھیل پائے تھے 116 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کرنے میں کامیاب رہے۔

اس سے قبل پاکستان کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 400 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی اور اسے انگلینڈ کے خلاف 103 رنز کی برتری بھی حاصل ہو گئی تھی۔

انگلینڈ کی جانب سے سٹورٹ براڈ اور کرس ووکس نے تین تین جبکہ جیمز اینڈرسن نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

مصباح الحق نے 93 گیندوں پر چھ چوکوں کی مدد سے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ تاہم وہ زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے اور 56 رنز بنانے کے بعد اینڈرسن کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کو یونس خان سے اس میچ میں بڑے سکور کی امید تھی جو پوری نہیں ہو سکی

تیسرے دن پاکستان کو دن کا پہلا اور مجموعی طور پر چوتھا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب یونس خان 31 رنز بنانے کے بعد ووکس کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے بیرسٹو کو کیچ دے بیٹھے۔

ان کی جگہ آنے والے اسد شفیق 18 گیندیں کھیل کر بغیر کوئی رن بنائے براڈ کی گیند پر اس وقت بولڈ ہوئے جب پاکستان کو انگلینڈ کی پہلی اننگز کا سکور برابر کرنے کے لیے ایک رن درکار تھا۔

انگلینڈ کی جانب سے اب تک جیمز اینڈرسن اور سٹوئرٹ براڈ نے ایک، ایک اور کرس ووکس نے دو وکٹیں حاصل کی ہیں۔

پاکستانی اننگز کی اب تک کی خاص بات اظہر علی اور سمیع اسلم کی عمدہ بلے بازی رہی ہے۔ ان دونوں نے دوسرے دن کے کھیل میں دوسری وکٹ کے لیے 181 رنز کی شاندار شراکت قائم کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اظہر علی کی سنچری نے پاکستان کے پہلی اننگز میں انگلینڈ پر سبقت لینے کے امکانات روشن کر دیے ہیں

سمیع اسلم تو ٹیسٹ کریئر کی پہلی نصف سنچری بنانے کے بعد 82 رنز کی اننگز کھیل کر رن آؤٹ ہوئے تاہم اظہر علی دن کی آخری گیند تک کریز پر رہے اور 15چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 139 رنز بنانے کے بعد کیچ آؤٹ ہوئے۔

یہ ان کے کریئر کی دسویں اور ایشیا سے باہر پہلی سنچری تھی۔

اس میچ میں انگلینڈ کی ٹیم کھیل کے پہلے دن اپنی پہلی اننگز میں 297 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔

پاکستان نے اس میچ کے لیے ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں اور شان مسعود اور وہاب ریاض کی جگہ سمیع اسلم اور سہیل خان کو ٹیم کو جگہ دی گئی ہے۔

انگلینڈ کی ٹیم میں زخمی ہونے والے آل راؤنڈر بین سٹوکس کی جگہ سٹیون فن کی واپسی ہوئی ہے۔

پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیموں کے درمیان چار میچوں کی یہ سیریز فی الوقت ایک ایک سے برابر ہے۔

اسی بارے میں