’ایسے تو صرف پاکستان ہی ہار سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

صرف پاکستان کی کرکٹ ٹیم ہی ہے جو سو رنز کی برتری لینے کے بعد بھی ہار جائے، گو کہ صرف تین فیصد ٹیسٹ میچوں میں ہی اتنی برتری حاصل کرنے کے بعد کسی ٹیم کو شکست ہوئی ہے۔

صرف پاکستان ہی اپنے حریف کے پسندیدہ میدان پر کھیلتے ہوئے دو دن دن تک اُن پر حکمرانی کرے اور آخر وہ اُسے اُٹھا کر باہر کریں۔

صرف پاکستانی ٹیم میں ہی یہ صلاحیت کہ وہ اپنایک رنز کے لیے مڈل آرڈر کو آؤٹ کروا دے اور آخری کے دو کھلاڑیوں کو ایک گھنٹے تک رنز بناتے اور وکٹ بچتے ہوئے دیکھے۔

چوتھے ٹیسٹ میں پاکستان کی ٹیم ہر لحاظ سے میچ کے لیے بہت مضبوط تھی لیکن میچ کا اختتام بہت ہی افسوسناک تھا۔ انگلینڈ نے بہت ہی خوب پاکستان کو ہرایا۔ بالکل ایسے جیسے پہلے دو دن میں انھوں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ لیا۔

چائے کے وقفے کے بعد حیرت انگیز ریورس سوئنگ نے میچ کی گرفت کو پاکستان سے دور کر دیا اور وہ ٹیمیں جو انگلینڈ کے گروانڈ پر اُسے شکست دینا چاہتی انھیں خوب مزہ چکھایا۔

ایسے میں پاکستان کے لیے امید کی کرن سمیع اسلم تھے جو اس میچ میں پاکستان کے بہترین بلے باز رہے۔ اپنے اردگرد موجود دوسرے تجربہ کار کھلاڑیوں کی طرف وہ کسی بھی لمحے بھکلاہٹ کا شکار نظر نہیں آئے کیونکہ بظاہر خوف زدہ ہونے کی وجہ سے باقی بلے باز کریز پر زیادہ دیر تک نہیں رک سکے۔

مصباح اور یونس خان دونوں نے ایسے ڈیلوریز کو ہٹ کیا جیسے وہ باآسانی چھوڑ سکتے تھے۔

اسد شفیق کی ناقص کارکردگی تو کھل کرسامنے آئی۔اظہر علی کچھ فام میں تھے لیکن اُن کے بھی آوٹ ہونے کے بعد سے پاکستانی ٹیم کا زوال شروع ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ وہ لمحہ تھا جب راحت اور روٹ کے درمیان جاری کشمکش اپنے عروج پر تھی

مصباح کی سب سے بڑی پریشانی اُن کی ٹیم کمپوزیشن تھی، بولروں کو تحمل سے باولنگ کروانا تھی لیکن فاسٹ باولر اکثر اپنے آخری سیشن میں کافی تھکے ہوئے دکھائی دیے۔

میچ کے تیسرے اور چوتھے دن انگلینڈ نے پاکستانی بالروں کو وکٹ لینے نہ دے اور میچ کو اپنے ہاتھ میں کر لیا۔

یہ وہ سوال نہیں ہے جس کا آسانی سے جواب دیا جا سکے بالکل ایسے ہی جیسے اس طرف کوئی آل روانڈر نہیں ہے۔

ایسے میں محمد حفیظ کے بارے میں کچھ سوال اُٹھ سکتے ہیں جو کہ دنیا میں اس وقت نہ صرف سب سے پرانے کرکٹر ہیں بالکل اس سریز میں بالنگ اور بیٹنگ دونوں میں مکمل طور پر ناکام ہوئے ہیں۔

میچ کے آخری دن انھوں نے جو کیچ چھوڑا اُس کے بعد پاکستان ٹیم نے جیت کی تگ ودو ہی ختم کر دی۔انھوں نے خراب بیٹنگ کی۔

سب سے زیادہ افسردہ بات یہ ہے کہ پاکستان اب یہ سریز نہیں جیت سکتا ہے۔

امید ہے کہ انگلینڈ اپنی جیت کا سفر اوول میں ہونے والے اگلے میچ میں جاری رکھے گا لیکن مصباح ٹیم اگر انگلینڈ سے سخت مقابلے کرتی ہے تو کچھ اُمید پیدا ہو سکتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ اب ٹیم کو جیت کے لیے چھوٹی موٹی کوشش نہیں کرنا ہو گی بلکہ اُسے جیت کے لیے باقاعدہ ایک جنگ لڑنا ہو گی۔

اسی بارے میں