’پاکستان کو معجزے کی ضرورت پڑےگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سہیل خان نے پانچ وکٹیں حاصل کیں

سنہ 1999 میں وسیم اکرم کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے آسٹریلیا کا دورہ کیا۔ اس سیریز کا انتہائی بے چینی کے ساتھ انتظار کیا جا رہا تھا کیونکہ اس وقت آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کو دنیا کی بہترین ٹیمیں تصور کیا جا رہا تھا، اور دیکھنا یہ تھا کہ ان میں سے کون سی ٹیم زیادہ بہتر ہے۔

پاکستان دلچسپ مقابلے کے بعد پہلا ٹیسٹ میچ تو ہار گیا لیکن دوسرے ٹیسٹ میچ میں اس کی زبردست واپسی ہوئی۔ لیکن ناقص امپائرنگ اور ایڈم گلکرسٹ کا دنیا کو اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا فیصلہ پاکستان کو شکست کی جانب لے گیا۔اس طرح سیریز کا خاتمہ تین صفر کی شکست سے ہوا اور اس کے بعد ایک دہائی تک آسٹریلیا دنیائے کرکٹ پر چھایا رہا۔

٭ ’ایسے تو صرف پاکستان ہی ہار سکتا ہے‘

٭ ایجبیسٹن کا وہ سحر آگیں اور طلسماتی لمحہ

دوسرا ٹیسٹ میچ پاکستان کرکٹ میں ’اگر، مگر‘ کی یاد دلاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں بھی کچھ ایسا ہی ہونے والا ہے۔

چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر کرنے کے بعد پاکستان کو پہلے تیسرے ٹیسٹ میچ کو جیتنے کا زبردست موقع ملا اور اب چوتھے ٹیسٹ میچ کو، لیکن وہ ایجبیسٹن میں بھی ہار گیا اور اب اوول میں پہلے دن کے کھیل کے بعد بھی کچھ ویسا ہی لگ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption معین علی نے سنچری سکور کر کے اپنی ٹیم کی پوزیشن مستحکم کر دی

ایک ایسی پچ پر پہلے کھیلنے کا فیصلہ جس میں کچھ جان ہو، انگلینڈ نے تیزی کے ساتھ رنز بنائے جیسا کہ وہ اکثر کرتا ہے۔

وہاب ریاض کی ٹیم میں واپسی ہوئی اور انھوں سیریز کا عمدہ بولنگ سپیل کروایا۔ انھوں نے تیز رفتار اور گھومتی ہوئی گیندیں کروا کر دو اہم وکٹیں حاصل کیں تو کھانے کے وقفے پر انگلینڈ کے چار کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔

وقفے کے بعد بیلنس بھی جلد ہی آؤٹ ہوگئے لیکن اچانک صورتحال تبدیل ہوگئی۔ پہلے وہاب رہاض جو کہ مسلسل نو بالز کروا رہے تھے اور انھیں نوبالز میں سے ایک پر بیرسٹو کیچ بھی ہوئے۔ اس کے بعد محمد عامر کی گیند پر اس سیریز کا پانچواں کیچ ڈراپ ہوا، جب اظہر علی نسبتاً ایک آسان کیچ لینے میں ناکام رہے۔

یہ کیچ معین علی کا تھا، جس کے بعد انھوں نے بیرسٹو کے ساتھ مل کر تیسرے ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگز کی طرح میچ پر پاکستان کی گرفت کو کمزور کردیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وہاب ریاض کی ٹیم میں واپسی ہوئی اور انھوں سیریز کا عمدہ بولنگ سپیل کروایا

بجائے اس کے کہ پاکستان چائے کے وقفے پر بیٹنگ کر رہا ہوتا اسے معین علی کی سنچری کے ساتھ ساتھ بیرسٹو اور ووکس کی برق رفتار اننگز دیکھنا پڑی۔

پاکستانی اننگز کا آغاز ہوا تو اسے گذشتہ میچ کے بہترین بلے باز سمیع اسلم کی وکٹ کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑا۔ ایک اوور جو پاکستان نے کھیلا اسے دیکھ کر اندازہ ہو گیا کہ انگلینڈ کو کتنی مشکل ہوئی ہوگی۔اگر پاکستان لمبی اننگز اور ایک بڑی برتری حاصل نہیں کر لیتا تو شاید وہ یہ میچ بھی ہار جائے۔

پاکستان کی بیٹنگ اس پوری سیریز کے دوران کمزور رہی ہے، اور یہ ٹیم زیادہ تر ناامید دکھائی دی ہے جسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

جب انگلینڈ کی بیٹنگ لڑکھڑا رہی تھی ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے پاکستانی کھلاڑی اور مداح انگلینڈ کی جانب سے میچ میں واپسی کی امید کر رہے تھے۔

پاکستان کے پاس اب بھی آئی سی سی رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کا موقع ہے گو کہ اس سے بہتر موقع ان کے پاس تیسرے ٹیسٹ میچ میں تھا جسے انھوں نے ہاتھ سے جانے دیا۔ اس مرتبہ پاکستان کو یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دینے کے لیے چھوٹے سے معجزے کی ضرورت ہوگی۔

اسی بارے میں