جذباتی وابستگی اور مقبولیت کا فرق

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کرکٹ کی مقبولیت کا ایک بنیادی سبب اس کا پروفیشنل ہونا ہے جبکہ دوسرے کھیل امیچر یعنی شوقیہ طور پر کھیلے جاتے رہے ہیں

پاکستانی عوام کے دل قومی کھیل ہاکی کے ساتھ دھڑکتے ہیں لیکن وہ دیوانے کرکٹ کے ہیں۔

دراصل یہ جذباتی وابستگی اور مقبولیت کا فرق ہے جو پاکستان بننے کے بعد سے موجود رہا ہے۔

٭ پاکستان کا انتظار کب ختم ہوگا؟

٭ باکسرز کی مایوسی وقت کے ساتھ بڑھی ہے‘

پاکستانی ہاکی جب اپنے عروج پر تھی تب اصلاح الدین، رشید جونیئر، سمیع اللہ، کلیم اللہ، منظور جونیئر، شہناز شیخ، حسن سردار اور شہباز احمد کے ناموں کی گونج اسی طرح سنائی دیتی تھی جیسے کرکٹ اسٹارز کی۔ لیکن اس وقت بھی یہ گلے شکوے سننے کو ملتے تھے کہ ساری توجہ کرکٹ تک محدود ہے اور دوسرے کھیلوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

اب جبکہ ہاکی اور دوسرے کھیل زوال پذیر ہو چکے ہیں ان گلوں شکووں کا شور کچھ زیادہ بلند ہو گیا ہے۔

کرکٹ کو بالاتر سمجھنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کا بنیادی سبب اس کا پروفیشنل ہونا ہے جبکہ دوسرے کھیل امیچر یعنی شوقیہ طور پر کھیلے جاتے رہے ہیں اور یہ بات صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں پروفیشنل اور امیچر کا فرق واضح طور پر موجود ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان نے اولمپکس کے ہاکی مقابلوں میں آخری بار سنہ 1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتا تھا

آج یہ امتیازی فرق زیادہ شدت سے محسوس ہوتا ہے لیکن موردِ الزام صرف اور صرف کرکٹ کو ٹھہرانا درست نہ ہوگا کیونکہ اس میں دیگر کھیلوں کے ارباب اختیار زیادہ قصوروار رہے ہیں۔

اگر پاکستان سپورٹس بورڈ اور کھیلوں کی قومی فیڈریشنز اپنے معاملات صحیح طریقے سے چلاتیں تو ہاکی سمیت کئی دوسرے کھیل زوال کا شکار نہ ہوتے۔

پاکستان سپورٹس بورڈ کا کام ملک میں کھیلوں کا ڈھانچہ استوار کرتے ہوئے کھلاڑیوں کی تربیت، کوچنگ اور غیرملکی دوروں کو یقینی بنانا ہے لیکن طویل عرصے سے سپورٹس بورڈ اپنا کردار صحیح طور پر ادا کرنے میں ناکام رہا ہے بلکہ حکومتی شخصیات کے ساتھ مل کر اس نے سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے ملک میں متوازی فیڈریشنز بنانے کو ہوا دی ہے۔

یہاں تک کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن جسے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی تسلیم کرتی ہے، اسے بھی ایک متوازی ایسوسی ایشن کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی حرکت میں نہ آتی تو حکومتی مداخلت اپنا کام دکھا چکی ہوتی۔

پاکستان میں سپورٹس حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

ایک زمانہ تھا جب کھلاڑیوں کو مختلف اداروں میں ملازمتیں ملا کرتی تھیں جہانگیرخان اور جان شیر خان جیسے فاتح عالم صرف اپنے کھیل کی وجہ سے پی آئی اے میں ترقی پاتے رہے اسی طرح کرکٹ اور ہاکی کے کھلاڑیوں کو بھی ان کے اداروں میں نمایاں مقام رہا۔ لیکن اب کئی اداروں نے اپنے کھیلوں کے شعبے ہی ختم کر دیے ہیں جس کا نقصان سب سے زیادہ چھوٹے کھیلوں کے کھلاڑیوں کو ہوا ہے جو کسی نہ کسی ادارے سے وابستہ ہوا کرتے تھے۔

حکومت نے ایک پالیسی کے تحت بین الاقوامی مقابلوں میں فاتح بننے والے کھلاڑیوں کے لیے نقد انعامات کا اعلان ضرور کر رکھا ہے لیکن سنوکر کے محمد آصف اور حمزہ اکبر کی مثالیں سب کے سامنے ہیں جو اپنا حق حاصل کرنے کے لیے وزارت اور سپورٹس بورڈ کے چکر لگاتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shah Hussain Shah
Image caption جاپان میں مقیم پاکستانی شاہ حسین شاہ جوڈو کھیلتے ہیں اور ریو اولمپکس میں حصہ لے رہے ہیں

پاکستان میں کھیلوں کا بجٹ جو مختلف قومی فیڈریشنز میں تقسیم ہوتا ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس بجٹ کا زیادہ تر حصہ پاکستان سپورٹس بورڈ کے افسران اور سٹاف کی تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا رہا ہے۔

اس سارے معاملے میں کھیلوں کی قومی فیڈریشنز کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا جنھوں نے اپنے طور پر سپانسر حاصل کرنے اور اپنے مالی وسائل بہتر کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر حکومتی امداد کا ہی انتظار کرتی رہی ہیں۔

یہ ستم ظریفی ہے کہ پاکستان جو کبھی بیک وقت چار کھیلوں میں عالمی چیمپئن تھا آج اولمپکس یا دولتِ مشترکہ کھیلوں میں تمغے حاصل کرنے کے لیے جاپان میں رہنے والے شاہ حسین شاہ اور انگلینڈ میں رہنے والے تیراکوں سے امید لگانے پر مجبور ہے، کیونکہ ملک سے باہر رہنے والے یہ نوجوان باصلاحیت کھلاڑی ایک منظم طریقہ کار کے تحت تربیت حاصل کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں کوچنگ کا ڈھانچہ زمیں بوس ہوچکا ہے اور حقدار کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارش اور پسند ناپسند کی فصیل کھڑی کر دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹینس سٹار اعصام الحق مالی طور پر مستحکم ہیں

آج اگر اعصام الحق بین الاقوامی ٹینس میں جو بھی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں اس میں پاکستان ٹینس فیڈریشن کا کریڈٹ نہیں بلکہ اس میں اعصام الحق کی اپنی محنت والدین کی سرپرستی اوران کے مالی طور پر مستحکم ہونے کا عمل دخل نمایاں ہے۔ ظاہر ہے ہر کوئی مالی طور پر اتنا مستحکم نہیں ہے کہ وہ تواتر کے ساتھ بیرون ملک مقابلوں میں حصہ لینے کا سوچ بھی سکے۔

کھلاڑیوں کو ملک سے باہر بھیجنے کی ذمہ داری جن پر عائد ہوتی ہے وہ خود غیرملکی سفر کے مزے لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں