انگلینڈ کی بیٹنگ ڈگمگا گئی، یاسر شاہ کی عمدہ بولنگ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یونس خان نے 29 چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے اپنے کریئر کی چھٹی ڈبل سنچری مکمل کی

اوول ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز انگلینڈ نے کھیل کے اختتام پر انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 88 رنز بنائے اور اسے پاکستان کی پہلی اننگز کی برتری کو ختم کرنے کے لیے 126 رنز کی ضرورت ہے۔

انگلینڈ کے آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں جو روٹ، ایلکس ہیلز، الیسٹر کک اور جیمز ونس شامل ہیں۔یاسر شاہ نے انتہائی عمدہ بولنگ کرتے سات اووروں میں صرف پندرہ رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کر لی ہیں۔

وہاب ریاض نے الیسٹر کک کو آؤٹ کر کے پاکستان کی پہلی بڑی کامیابی دلائی۔ وہاب ریاض نے اپنے بولنگ سپیل کا آغاز انتہائی برق رفتاری سے کیا۔ البتہ امپائر نے وہاب ریاض کو پچ کے خطرناک حصے میں جانے کی وجہ سے ایک وارننگ دی ہے۔ دو مزید وارننگ کی صورت میں وہ اس اننگز میں مزید بولنگ نہیں کر سکیں گے۔

اس سے پہلے پاکستان کی پوری ٹیم 542 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی اور پاکستان کو پہلی اننگز میں 214 رنز کی برتری حاصل ہو چکی ہے۔ پاکستان کی جانب سے یونس خان نے اپنے کریئر کی چھٹی ڈبل سنچری سکور کی۔ یونس خان 218 رنز بنا کر جیمز اینڈرسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔

٭ میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

٭ پاکستان آخر پاکستان ہی ہے

٭ پاکستان چھ برس بعد انگلینڈ میں: خصوصی ضمیمہ

آخری آؤٹ ہونے والے کھلاڑی سہیل خان تھے۔ فاسٹ بولر محمد عامر نے بھی اپنے کریئر کا سب سے زیادہ 39 رنز سکور کر کے ناٹ آؤٹ رہے۔

یونس خان نے 29 چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے اپنے کریئر کی چھٹی ڈبل سنچری سکور کی۔

پاکستان نے جب تیسرے روز کھیل شروع کیا تو اس 340 رنز بنائے تھے اور اس کی چھ وکٹیں گر چکی تھی۔

ماہرین کرکٹ کے خیال میں انگلش فاسٹ بولر تیسرے روز کے پہلے سیشن میں نئی گیند اور لندن کے ابر الود موسم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے بقیہ چار کھلاڑیوں کو جلد ہی پویلین لوٹا دیں گے لیکن یونس خان اور سرفراز احمد کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔

پاکستان نے تیسرے روز اپنے سکور میں 202 رنز کا اضافہ کیا۔

ایک موقع پر انگلش کپتان الیسٹر کک نے اپنے تمام فیلڈروں کو باونڈری لائن پر بھیج دیا تھا۔

میچ کے تیسرے روز آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں یونس خان، سرفراز احمد، وہاب ریاض اور سہیل خان شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرفراز احمد کے بیٹنگ سٹائل نے کرکٹ ماہرین کو حیران کر دیا ہے

پاکستان نے جب تیسرے روز کھیل کا آغاز کیا تو اس کا مجموعی سکور 340 رنز تھا۔ گذشتہ روز کے ناٹ آؤٹ بیٹسمینوں نے انتہائی تحمل اور اعتماد سے لندن کے ابرالود موسم میں کھیلتے ہوئے ٹیم کا سکور آگے بڑھانا شروع کیا اور ایک گھنٹے تک انگلش بولروں کے ہاتھوں کوئی وکٹ نہ آئی۔ وکٹ کیپر سرفراز نے اپنی اننگز میں کئی دلکش سٹروکس کھیلے اور بالآخر 44 کے انفرادی سکور پر وکٹ کیپر کو کیچ تمھا بیٹھے۔

سرفراز احمد جس انداز میں آگے بڑھ کر فاسٹ بولروں کو کھیلتے ہیں اس نے ماہرین کرکٹ کو حیران کر دیا ہے۔ گذشتہ روز جب سرفراز احمد نے فاسٹ بولر سٹیو براڈ کو آگے بڑھ کر چوکا لگایا تو انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین نے کہا کہ ’ایسا تو صرف ویوین رچرڈ کھیلا کرتے تھے۔‘

اسی بارے میں