ریو میں طلائی تمغہ جیتنے والا امریکی تیراک لٹ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption لوکٹی کی والدہ نے سب سے پہلے اس واقعے کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کیا

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں جاری اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والے امریکی تیراک اور دیگر تین کھلاڑیوں کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا۔

امریکہ کی اولمپک کمیٹی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق تیراک رائن لوکٹی، جیمی فیجن، جیک کونگر، گونر بنٹز کو مسلح افراد نے ریو میں لوٹ لیا۔

٭ ریو اولمپکس 2016 پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

بیان کے مطابق ڈاکوؤں نے مسلح پولیس کی وردی پہن رکھی تھی اور کھلاڑیوں سے رقم اور دیگر استعمال کی اشیا کا مطالبہ کیا۔

ابتدا میں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی تاہم بعد میں امریکی اولمپک کمیٹی نے اس واقعے کی تصدیق کر دی۔

چاروں کھلاڑی فرانسیسی ٹیم کے ایک پروگرام میں شرکت کے بعد ٹیکسی میں واپس ایتھلیٹکس ویلج جا رہی تھے کہ راستے میں ان کو روک کر لوٹ لیا گیا۔

اس واقعے کے بارے میں سب سے پہلے اس وقت معلوم ہوا جب رائن لوکٹی کی والدہ نے یو ایس ٹو ڈے کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو اس واقعے میں کوئی نقصان نہیں پہنچا لیکن واردات پر لرز گیا ہے۔

اس پر انٹرنیشنل اولپمک کمیٹی کے ترجمان مارک ایڈمز نے کہا تھا کہ ڈکیتی کی خبروں میں بالکل سچائی نہیں ہے۔

ریو میں اس سے قبل سپین کی کشی رانی کی ٹیم کے تین ارکان اور آسٹریلیا کے معذور کھلاڑی کو بندوق کی نوک پر لوٹا جا چکا ہے۔

ریو میں اولمپکس کے دوران حکام نے فوج اور پولیس کے 80 ہزار اہلکار سکیورٹی پر تعینات کیے ہیں۔

اسی بارے میں