اسرائیلی حریف سے ہاتھ ملانے سے انکار، مصری کھلاڑی وطن واپس

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈسپلنری کمیشن کے مطابق اس کھلاڑی کا رویہ کھیل اور اولمپک کی دوستانہ اقدار کے منافی تھا

برازیل کے شہر ریو میں اولمپکس حکام کے مطابق مصر کے جوڈو کے کھلاڑی اسلام الشہابی کو ان کے ملک واپس بھیج دیا گیا ہے۔

اسلام الشہابی نے اپنے اسرائیلی حریف کھلاڑی سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تھا۔

گذشتہ ہفتے جوڈو کے ہیوی ویٹ مقابلے کے پہلے راؤنڈ میں اسلام الشہابی کو اسرائیلی کھلاڑی اور سیسن نے شکست دی تھی لیکن مقابلے کے بعد الشہابی نے ہاتھ ملانے اور روایتی طور پر جھکنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس مقابلے کے بعد انھیں حاضرین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ جوڈو کے کھیل میں دونوں کھلاڑی روایت کے طور پر ایک دوسرے کے سامنے سر جھکاتے ہیں، جو جاپان میں تعظیم کی علامت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس مقابلے میں اسرائیلی کھلاڑی اور سیسن نے الشہابی کو شکست دی تھی

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے ترجمان نے ڈسپلنری کمیشن کے اجلاس کے بعد بتایا کہ ’مصر کی اولمپک کمیٹی نے اسلام الشہابی کے اس فعل کی سخت مذمت کی ہے اور انھیں گھر واپس بھیج دیا ہے۔‘

ڈسپلنری کمیشن کے مطابق اس کھلاڑی کا رویہ کھیل اور اولمپک کی دوستانہ اقدار کے منافی تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ کمیشن نے مصر کی اولمپک کمیٹی کو کھلاڑیوں کو اولمپک مقابلوں میں شرکت سے قبل اولمپکس کی اقدار کے حوالے سے مطلع کرنے اور مستقبل میں اس قسم کے کسی واقعے سے بچاؤ کو یقینی بنانے کی تلقین کی ہے۔

خیال رہے کہ 32 سالہ اسلام الشہابی نے 2010 میں عالمی چیمپیئن شپ میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا اور انھیں سوشل میڈیا پر اور ان کے آبائی ملک میں شدت پسند حلقوں کی جانب سے اس مقابلے سے دست بردار ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا بھی تھا۔

اسی بارے میں