بولٹ نے لگاتار تیسری بار سو میٹر کی دوڑ جیت لی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں جاری اولمپکس میں جمیکا کے یوسین بولٹ سو میٹر کی دوڑ میں طلائی تمغہ جیت کر اولمپک مقابلوں میں اس ریس میں تین طلائی تمغے جیتنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

بولٹ کے علاوہ نویں دن کی خاص بات چار سو میٹر کی دوڑ میں جنوبی افریقہ کے ویڈ وین نیکرک کی ریکارڈ ساز کارکردگی رہی۔

نیکرک نے مقررہ فاصلہ 43.03 سیکنڈ میں طے کر کے نہ صرف اس دوڑ میں طلائی تمغہ جیتا بلکہ امریکہ کے مائیکل جانسن کا 17 سال پرانا عالمی ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

٭ 100 میٹر کی دوڑ: اولمپکس کے سر کا تاج

٭ ریو اولمپکس پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

نواں دان برطانیہ کے لیے بھی بہترین رہا اور اس کے کھلاڑیوں میں نے مزید پانچ طلائی تمغے جیت کر اپنے ملک کو میڈل ٹیبل میں دوسرے نمبر پر پہنچا دیا۔

یوسین بولٹ نے سو میٹر کی دوڑ کے فائنل میں اپنے روایتی حریف امریکہ کے جسٹن گیٹلن کو سخت مقابلے کے بعد شکست دی۔

بولٹ نے سو میٹر کا فاصلہ 9.81 سیکنڈ میں طے کیا جبکہ دو بار ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کے الزام میں پابندی کا سامنا کرنے والے گیٹلن ان سے صرف 0.08 سیکنڈ پیچھے رہے۔

Image caption ویڈ وین نیکرک نے 400 میٹر کی دوڑ میں طلائی تمغہ جیتا اور امریکہ کے مائیکل جانسن کا 17 سال پرانا عالمی ریکارڈ بھی توڑا

سو میٹر کی دوڑ میں عالمی ریکارڈ یافتہ بولٹ نے فتح کے بعد نے بی بی سی کو بتایا: ’مجھے زیادہ تیز بھاگنے کی توقع تھی، لیکن پھر بھی خوشی ہے کہ میں جیت گیا۔ میں یہاں اپنی کارکردگی دکھانے آیا ہوں اور میں نے وہی کیا جو مجھے کرنا چاہیے تھا۔‘

اس سے قبل بولٹ 2008 اور 2012 میں سو میٹر، دو سو میٹر اور چار ضرب سو میٹر کی ریس جیت چکے ہیں اور وہ ریو میں بھی انھی تین مقابلوں میں اپنے اعزاز کا دفاع کر رہے ہیں۔

بولٹ نے، جنھیں دنیا کا تیز رفتار ترین انسان کہا جاتا ہے، فروری میں کہا تھا کہ وہ 2017 میں ہونے والی عالمی چیمپیئن شپ کے بعد ریٹائرمنٹ لے لیں گے۔

ادھر برطانیہ کے ٹینس سٹار اینڈی مرے ارجنٹائن کے ہوان مارٹن ڈیل پوٹرو کو ہرا کر ٹینس کے پہلے ایسے کھلاڑی بن گئے جنھوں نے اولمپکس میں مردوں کے سنگلز مقابلوں میں دو طلائی تمغے حاصل کیے ہیں۔

عالمی نمبر دو مرے اس سے قبل لندن 2012 میں بھی طلائی تمغہ جیت چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بولٹ نے سو میٹر کا فاصلہ 9.81 سیکنڈ میں طے کیا

مرے اور ان کے حریف ڈیل پوٹرو کے درمیان مقابلہ چار سیٹ تک چلا جس کے دوران پلڑا کبھی ایک اور کبھی دوسرے کے حق میں جھکتا رہا۔

ومبلڈن چیمپیئن مرے نے اس میچ کو اپنے کریئر کے ’سخت ترین مقابلوں میں سے ایک‘ قرار دیا۔

مرے کے علاوہ برطانیہ کے کھلاڑیوں نے سائیکلنگ سپرنٹ (جیسن کینی)، جمناسٹکس پومل ہورس (میکس وٹلاک)، جمناسکٹس فلور ایکسرسائز (میکس وٹلاک) اور گولف (جسٹن روز) میں طلائی تمغے حاصل کیے۔

نویں دن کے اختتام پر امریکہ 26 طلائی سمیت 69 تمغوں کے ساتھ میڈل ٹیبل پر سرفہرست ہے۔

برطانیہ اور چین دونوں نے 15، 15 طلائی تمغے جیتے ہیں تاہم چاندی کے تمغوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے برطانیہ دوسرے اور چین تیسرے نمبر پر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اینڈی مرے نے اپنے حریف کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر سونے کا تمغہ اپنے نام کیا

اسی بارے میں