ریو 2016: کھیل کےحقیقی جذبے کی پذیرائي

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پہلے امریکی رنر نے اپنی حریف کی مدد کی پھر ان کی حریف نے ان کی مدد اور حوصلہ افزائي کی

امریکہ کی ایبی ڈی اگوسٹینو کو حقیقی اولمپیئن کہا جا رہا ہے کیونکہ انھوں نے پانچ ہزار میٹر کے ابتدائی کوالیفائنگ مقابلے کے دوران بیچ میں ہی رک کر اپنی ایک حریف رنر کی اٹھنے میں مدد کی۔

برازیل کے شہر ریو میں جاری اولمپکس مقابلوں میں امریکی ایتھلیٹ ایبی ڈی اگوسٹینو کی ان کے کھیل کے اس حقیقی جذبے کے لیے پذیرائی ہو رہی ہے۔

انھوں نے نیوزی لینڈ کی نکی ہیمبلن کو سہارا دے کر اٹھاتے ہوئے کہا: ’اٹھو، ہمیں اس کو پورا کرنا ہے۔‘

اس کے بعد ہیمبلن کی باری تھی جنھوں نے ڈی اگوسٹینو کی مدد کی جب وہ زخمی ہو گئیں۔ ڈی اگوسٹینو اس مقابلے میں آخر پر رہیں۔

ڈي اگوسٹینوں کے وھیل چیئر میں سٹیڈیم سے جانے سے قبل ہیمبلن ان سے گلے ملیں۔

ہیٹ میں ان دونوں میں سے کوئی بھی اگلے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا تاہم ان کے جذبے کی پذیرائي کرتے ہوئے انھیں فائنل میں دوڑنے کا موقع دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ CBC
Image caption فنشنگ لائن پر نیوزی لینڈ کی رنر نے امریکی کھلاڑی کو سہارا دیا اور بغل گیر ہوئیں

یہ واقعہ پانچ کلو میٹر کی دوڑ میں تقریباً تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد پیش آیا، جب ڈي اگوسٹینو کی ٹانگ پیچھے سے ہیمبلن کے پاؤں سے ٹکرا گئی اور دونوں گر پڑیں۔

ہیملن زور سے گریں جبکہ ڈي آگسٹینو تیزی سے اٹھ گئيں۔ ہیمبلن وہیں ٹریک پر پڑی تھیں اور ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

مقابلے کو جاری رکھنے اور دوسرے حریفوں تک پہنچنے کے بجائے امریکی ایتھلیٹ نے ہیمبلن کے بازو کے نیچے ہاتھ ڈال کر انھیں اٹھایا اور ہمت نہ ہارنے کی بات کہی۔

جب پھر سے دونوں نے دوڑنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ ڈی اگوسٹینو کا زخم زیادہ سنگین تھا اور ان کے ٹخنے پر زیادہ چوٹ آئی تھی۔

اس لیے اب ہیملن کی باری تھی کہ وہ اپنی حریف کی حوصلہ افزائی کریں۔

ہمیبلن نے کہا: ’پہلے انھوں نے میری مدد کی۔ پھر میں نے ان کی مدد کی کوشش کی۔ ان کی حالت بہت خراب تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ DANIEL CHERNY
Image caption اس جذبے کی سوشل میڈیا پر بہت پزیرائي ہو رہی ہے

ہیمبلن نے پھر ڈی اگوسٹینو کو چھوڑ دیا کیونکہ انھیں ایسا محسوس ہونے لگا کہ اب امریکی رنر مقابلہ جاری نہیں رکھ پائيں گی۔

اس کے بعد انھوں نے منزل پر ان کا انتظار کیا جہاں دونوں گلے ملیں اور یہاں ڈي اگوسٹینو کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

ہمیبلن نے کہا: ’یہ لڑکی اولمپکس کے حقیقی جذبے کی عکاس ہے۔‘

بہر حال منتظمین نے ان دونوں کو فائنل کے لیے منتخب کر تے ہوئے کہا کہ اگر وہ صحتیاب ہو جاتی ہیں تو جمعے کو ہونے والے فائنل میں شرکت کر سکیں گي۔

اسی بارے میں