ریو جانے والے انڈین پہلوان پر چار برس کی پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رسنگھ یادو پر یہ پابندی کورٹ آف آربٹریشن فار سپورٹس یعنی کاس نے لگائی ہے

کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت نے ورلڈ ڈوپنگ ایجنسی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ریو بھیجے جانے والے انڈین پہلوان نرسنگھ یادو پر چار برس کی پابندی عائد کر دی ہے۔

یادو نے جمعہ کو مردوں کی فری سٹائل کشتی کے 74 کلوگرام وزن کے مقابلے میں حصہ لینا تھا۔

ریو اولمپکس کے لیے انڈیا سے روانگی سے چند روز پہلے ہی نرسنگھ یادو ڈوپنگ ٹیسٹ میں ناکام رہے تھے۔

تاہم انھوں نے کہا تھا کہ ان کے بعض ساتھی پہلوانوں نے ہی ان کے خلاف سازش کی تھی اور ان کے کھانے میں بعض ممنوعہ ادویات ملا دی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نرسنگھ یادو نے گذشتہ سال لاس ویگاس میں منعقد ہونے والی عالمی کُشتی کے عالمی چمپیئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا اور اس طرح ریو کے لیے کوالیفائی بھی کیا تھا

نرسنگھ نے اس سلسلے میں پولیس میں مقدمہ بھی درج کروایا تھا۔

اس صورتحال میں انڈیا کی قومی ڈوپنگ ایجنسی نے انھیں کلین چٹ دے دی تھی اور انھیں ریو اولمپکس میں حصہ لینے کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔

ورلڈ ڈوپنگ ایجنسی نے نرسنگھ یادو کو کلین چٹ دیے جانے کے فیصلے کے خلاف کورٹ آف آربیٹریشن فار سپورٹس میں فوری طور پر اپیل دائر کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

کاس نے اس معاملے میں واڈا کے موقف کی سماعت کے بعد یادو کو دی گئی کلین چٹ کو خارج کر دیا اور ان پر چار سال کی پابندی لگا دی جس کے بعد اب وہ ریو اولمپکس سے بھی باہر ہوگئے ہیں۔

نرسنگھ یادو نے گذشتہ سال لاس ویگاس میں منعقد ہونے والی کُشتی کی عالمی چمپیئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا اور اس طرح ریو کے لیے کوالیفائی بھی کیا تھا۔

وہ سنہ 2014 کے انچیون ایشیائی کھیلوں میں 74 کلوگرام وزن کی کلاس میں کانسی کا تمغہ بھی جیت چکے ہیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے سنہ 2010 کے دولت مشترکہ کھیلوں میں بھی طلائی تمغہ جیتا تھا۔

اسی بارے میں