’امریکی تیراک 11 ہزار ڈالر عطیہ کرنے پر تیار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فیگن نے تیراکی کے 4x100 میٹر فری سٹائل ریلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریو میں اولمپکس کے دوران لُوٹے جانے کے بارے میں غلط بیانی کرنے والے چار امریکی تیراکوں میں سے ایک جیمز فیگن نے ایک برازیلی خیراتی ادارے کو 11 ہزار ڈالر عطیہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ان چار تیراکوں میں فیگن کے علاوہ رائن لوکٹے، گونر بنٹز اور جیک کونگر شامل تھے اور امریکہ کی اولمپک کمیٹی نے ان کی غلط بیانی پر برازیلی عوام سے معافی مانگی ہے۔

٭ ریو اولمپکس 2016 پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

٭ امریکی تیراکوں کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا

امریکی تیراکوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں اتوار کو ریو ڈی جنیرو میں گن پوائنٹ پر لُوٹ لیا گیا تھا تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتہ چلا کہ ان کا یہ دعویٰ من گھڑت تھا اور وہ خود ایک پیٹرول پمپ پر توڑ پھوڑ میں ملوث تھے۔

رائن لوکٹے تو منگل کو ہی برازیل سے واپس وطن جا چکے تھے تاہم فیگن برازیل کی پولیس کی حراست میں ہیں اور وہ اپنا پاسپورٹ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے 11 ہزار ڈالر عطیہ کرنے پر تیار ہوگئے ہیں۔

ان کے بقیہ دونوں ساتھیوں گونر بنٹز اور جیک کونگر کو جمعرات کی شب برازیلی ہوائی اڈے پر پرواز سے اتار کر ان سے تفتیش کی گئی تھی جس کے بعد وہ جمعے کو ریو ڈی جنیرو سے واپس امریکہ روانہ ہوئے ہیں۔

جمعرات کو پولیس سربراہ فرنینڈو ویلوسو نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ کھلاڑیوں میں سے ایک یا ایک سے زیادہ افراد نے ایک پیٹرول سٹیشن پر توڑ پھوڑ کی تھی اور بعد میں اس نقصان کے ازالے کے طور پر رقم ادا کرنے کی پیش کش کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گونر بنٹز اور جیک کونگر کو جمعرات کی شب برازیلی ہوائی اڈے پر پرواز سے اتار کر ان سے تفتیش کی گئی تھی

ان کا کہنا تھا کہ مسلح گارڈ کی مداخلت پر امریکیوں نے رقم ادا کی اور چلے گئے۔

فرنینڈو ویلوسو کا کہنا تھا کہ جب ایک تیراک نے تذبذب کا مظاہرہ کیا تو ایک گارڈ نے اس پر بندوق تان لی تھی۔

پیٹرول پمپ پر تکرار کے دوران پولیس کو بھی بلا لیا گیا تھا تاہم پولیس کے وہاں پہنچنے سے قبل تیراک وہاں سے جاچکے تھے۔

امریکہ کی اولمپک کمیٹی نے تیراکوں کے رویے کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا یہ عمل امریکی ٹیم کی اقدار کی ترجمانی نہیں کرتا۔

اس سے قبل برازیلین پولیس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان افراد نے پیٹرول سٹیشن کے باتھ روم کے دروازے کو نقصان پہنچانے کے تنازعے کو چھپانے کے لیے ڈکیتی کی کہانی گھڑ لی تھی۔

فرنینڈو ویلوسو کا کہنا ہے کہ تیراکوں نے مسلسل اپنے بیانات تبدیل کیے اور وہ غلط بیانی اور توڑ پھوڑ کے مقدمات کا سامنا کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریو اولمپکس میں لوکٹی نے 4x200 فری سٹال ریلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ ’ریو کی عوام شہر کی بدنامی پر ناخوش ہیں اور اس حوالے سے معذرت کا خیرمقدم کیا جائے گا۔‘

رائن لوکٹے نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی فیجین، گنر بنٹز اور جیک کونگر فرانسیسی اولمپک ٹیم کے ایک پروگرام میں شرکت کے بعد ٹیکسی میں واپس ایتھلیٹکس ویلج جا رہے تھے کہ راستے میں ان کو روک کر لوٹ لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں نے مسلح پولیس کی وردی پہن رکھی تھی اور ایک شخص نے ان کے سر پر بندوق رکھی اور رقم اور دیگر استعمال کی اشیا کا مطالبہ کیا۔

تاہم اس کیس کی تفتیش کرنے والی پولیس کا کہنا تھا کہ انھیں ڈکیتی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ پولیس کی جانب سے تیراکوں کے بیانات میں ڈاکوؤں کی تعداد کے حوالے سے بھی تضاد پایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ رائن لوکٹے کا شمار دنیا کے کامیاب ترین تیراکوں میں ہوتا ہے اور وہ 12 اولمپک میڈل جیت چکے ہیں۔

ریو اولمپکس میں انھوں نے 4x200 فری سٹال ریلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا ہے جبکہ فیگن بھی 4x100 میٹر فری سٹائل ریلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔

اسی بارے میں