’ہم وطن تیراک کے اقدام کی وضاحت نہیں کر سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فیگن نے تیراکی کے 4x100 میٹر فری سٹائل ریلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا

ریو اولمپکس کے دوران لُوٹے جانے کے بارے میں غلط بیانی کرنے والے زیر حراست امریکی تیراک گونر بنٹز نے کہا ہے کہ وہ اپنے ساتھی تیراک کے اقدام کی وضاحت نہیں کر سکتے ہیں۔

گونر بنٹز اُن دو تیراکوں میں سے ایک ہیں جنھیں برازیل کے حکام نے ریو ڈی جنیرو کے ایئرپورٹ پر روک لیا تھا۔

٭ ’امریکی تیراک 11 ہزار ڈالر عطیہ کرنے پر تیار‘

٭ امریکی تیراکوں کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا

٭ ریو اولمپکس 2016 پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

برازیل کے حکام نے دونوں امریکی تیراکوں کو تفتیش کے لیے بدھ کی رات گئے امریکہ جانے والی فلائٹ سے اتار لیا تھا اور پھر چند گھنٹوں بعد انھیں چھوڑ دیا۔

یونیورسٹی آف جارجیا کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق امریکی تیراک گونر بنٹزنے معافی مانگی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گونر بنٹز اور جیک کونگر کو جمعرات کی شب برازیلی ہوائی اڈے پر پرواز سے اتار کر ان سے تفتیش کی گئی تھی

انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی نے ڈکیٹی کے اس مبینہ واقعے اور چاروں تیراکوں کے رویے کے بارے تحقیقات کے لیے ڈسپلنری کمیشن تشکیل دیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی تیراک رائن لوکٹے نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو اتوار کو ریو ڈی جنیرو میں گن پوائنٹ پر لوٹ لیا گیا تھا تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتہ چلا کہ ان کا یہ دعویٰ من گھڑت تھا اور وہ خود ایک پیٹرول پمپ پر توڑ پھوڑ میں ملوث تھے۔

گونر بنٹز نے ایک بیان میں کہا کہ اس توڑ پھوڑ میں ان کی حیثیت ایک مشتبہ شخص کے بجائے عینی شاید کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے کبھی بھی کسی بھی وقت ’جھوٹا بیان‘ نہیں دیا۔

رائن لوکٹے نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی فرانسیسی اولمپک ٹیم کے ایک پروگرام میں شرکت کے بعد ٹیکسی میں واپس ایتھلیٹکس ویلج جا رہے تھے کہ راستے میں ان کو روک کر لوٹ لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں نے مسلح پولیس کی وردی پہن رکھی تھی اور ایک شخص نے ان کے سر پر بندوق رکھی اور رقم اور دیگر استعمال کی اشیا کا مطالبہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریو اولمپکس میں لوکٹی نے 4x200 فری سٹال ریلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا ہے

تاہم اس کیس کی تفتیش کرنے والی پولیس کا کہنا تھا کہ انھیں ڈکیتی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ پولیس کی جانب سے تیراکوں کے بیانات میں ڈاکوؤں کی تعداد کے حوالے سے بھی تضاد پایا گیا۔

گونر بنٹز نے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے ’مجھے افسوس ہے کہ اس واقعے سے اولمپک مقابلوں کے علاوہ کسی اور معاملے پر بات ہوئی۔ حالانکہ برازیل اور اُس کے شہریوں نے بہترین طریقے سے اولمپک کی میزبانی کی ہے۔‘

’بغیر کسی سوال کہ میں نے ان حالات سے ایک اہم سبق سیکھا ہے۔ میں جو بھی کرتا ہوں اُس سے میں اپنے خاندان، اپنے ملک اور سکول کی ترجمانی کرتا ہوں۔ میں اس ذمے داری کو غیر سنجیدہ نہیں لوں گا۔‘

یاد رہے کہ امریکہ کی اولمپک کمیٹی نے ان تیراکوں کی غلط بیانی پر برازیلی عوام سے معافی مانگی ہے۔

رائن لوکٹے تو منگل کو ہی برازیل سے واپس وطن جا چکے تھے تاہم فیگن برازیل کی پولیس کی حراست میں ہیں۔

رائن لوکٹے کا شمار دنیا کے کامیاب ترین تیراکوں میں ہوتا ہے اور وہ 12 اولمپک میڈل جیت چکے ہیں۔

ریو اولمپکس میں انھوں نے 4x200 فری سٹال ریلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا جب کہ فیگن نے بھی 4x100 میٹر فری سٹائل ریلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔

اسی بارے میں