انڈین ایتھلیٹ کو پانی نہیں دیاگیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ریو اولمپکس سے انڈین حکام کے بارے میں منفی خبر سامنے آئی ہو

ریو اولمپکس میں انڈیا کی نمائندگی کرنے والی ایک خاتون ایتھلیٹ نے الزام لگایا ہے کہ میراتھن دورڑ کے دوران انڈین آفشلز کی جانب سے انھیں پانی اور توانائی والے مشروبات مہیا نہیں کیے گئے۔

او پی جئشا کے بقول پانی نہ ملنے کے باعث ان کی موت ہو سکتی تھی۔

٭ریو اولمپکس میں ’انڈين وزیرِ کھیل کا ترش اور جارحانہ برتاؤ‘

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے 42 کلومیڑ طویل میراتھن دورڑنے کے بعد جئشا بہوش ہو گئی تھیں اور انھیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

دوسری جانب انڈین آفشلز نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جئشا اور ان کے کوچ نے مشروبات لینے سے انکار کر دیا تھا۔

ایتھلیٹکس فیڈریشن آف انڈیا (اے ایف آئی) کے بقول ریو میں موجود ان کے آفشلز سے کسی بھی ایتھلیٹ یا کوچ کی جانب سے کوئی مخصوص مشروب نہیں مانگا گیا تھا۔

اے ایف آئی کا کہنا ہے کہ مشروبات مہیا کرنا منتظمین کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس مقصد کے لیے ریس کے راستے میں مخصوص مقامات پر انتظامات کیے جاتے ہیں۔

انڈیا کے سرکاری خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق جئشا نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سخت گرمی میں دوڑ رہی تھیں اور انھیں پانی میسر نہیں تھا ’ آٹھ کلومیٹر دوڑنے کے بعد ہمیں منتظمین کی جانب سے پانی دیا گیا۔‘

جئشا کا مزید کہنا تھا کہ ’ ہر ملک کے دوکلومیٹر کے بعد پانی والے سٹال موجود تھے تاہم انڈیا کے سٹال خالی پڑے تھے۔‘

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ریو اولمپکس سے انڈین حکام کے بارے میں منفی خبر سامنے آئی ہو۔

انڈیا کے کھیلوں کے وزیر کو المپکس کے منتظمین کی جانب سے اس وقت وارنگ دی گئی جب ان کے عملے کے ارکان نے منتظمین کے ساتھ بدتمیزی کی تھی اور مناسب اجازت ناموں کے بغیر سٹیڈیم میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔

اسی بارے میں