میچ جیتنے کے لیے فائر پاور چاہیے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

کرکٹ میں استعمال ہونے والی اصطلاحات میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور یہ تجزیہ کاروں اور کمنٹری کرنے والوں میں کافی مقبول بھی ہوتی ہیں۔ جیسے کہ نوے کی دہائی میں پنچ ہیٹٹر، سنہ 2010 تک فنشر اور آج کے دور میں فائر پاور مشہور ہے۔

٭ 1990 کی کرکٹ 2016 میں نہیں چلے گی

٭ دوسرے ایک روزہ میچ کی تصاویر

تو یہ فائر پاور ہے کیا؟

فائر پاور کی ایک مثال یہ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں ویسٹ انڈیز کے آٹھویں نمبر پر آنے والا کھلاڑی کارلوس برایتھوایٹ نے کیسے انگلش ٹیم کی دھجیاں بکھیر دے۔

آج انگلینڈ اور پاکستان کے میچ میں پہلے تین کھلاڑیوں کے علاوہ مجموعی طور پر کھلاڑیوں کی کارکردگی پہلے میچ کی نسبت بہتر رہی۔

پاکستانی بیٹسمینوں نے یہ بات ثابت کیا کہ اگر پہلے تین یا چار کھلاڑی جلدی آؤٹ ہو بھی جائیں اور مڈل آڈر جم کے کھیلے تو میچ ہاتھ سے نہیں نکل سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

لیکن اگر آپ کو میچ پر اپنی پوزیشن مستحکم رکھنی ہے تو بعد میں آنے والے بیٹسمینوں میں اتنی فائر پاور ہونی چاہیے کہ وہ ڈیتھ اوور یعنی آخری کے اوورز میں سکور میں تیزی سے اضافہ کرتے ہوئے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لیں۔

ایسی کارکردگی عموماً آل رؤانڈز کی ہوتی ہے کہ وہ بولر جو شارٹ میکر تو نہیں ہوتے لیکن جارحانہ کھیل کر سکور تیزی سے آگے لے جاتے ہیں۔

پاکستان کی ٹیم میں مختلف ادوار میں ایسے کئی کھلاڑی موجود تھے۔ جیسے وسیم اکرم اور معین خان ایسے دو کھلاڑی تھے جو کہ جارحانہ ہیٹٹر تھے اور پھر بعد میں پاکستان کو یہ خدمات اظہر محمود اور عبدر رازق نے دیں۔

کبھی کبھی شاہد آفریدی بھی اس میں شامل ہو جاتے تھے۔

ان کھلاڑیوں کا ٹیم میں ہونا پاکستان کو فائر پاور دیتا تھا لیکن ان دونوں کھلاڑیوں کے بعد پاکستان کی ٹیم میں کوئی مستحکم اور جارحانہ پنچ ہیٹٹر نہیں آیا۔

آج انگلینڈ کے خلاف میچ میں پاکستان کے مڈل آرڈر نے ٹیم کو اچھے سکور تک پہنچا تو دیا لیکن لوئر آرڈر میں فائر پاور کی کمی کی

وجہ سے پاکستان 250 سے زیادہ کا سکور نہیں کر سکا۔

یاسر شاہ نے ٹیسٹ میچ میں بہترین شاٹس کھیلے تھے جس سے لگ رہا تھا کہ اگر انھیں مزید تربیت دی جائے تو کچھ بہتری آ سکتی ہے اور ممکن ہے کہ اینڈریو سائمنڈ کی طرح وہ بھی پاکستان کے لیے ایک سرپرائز بولنگ آل راؤنڈر ثابت ہوں اور ٹیم کو فائر پاور دیں۔

پاکستان کی شکست کو ایک طرف رکھ کر اگر ہم کارکردگی پر نظر ڈالیں تو مڈل آرڈر کے سکور کرنے کے علاوہ نوجوان بالر حسن علی نے بہتر لائن اور لینتھ کے ساتھ بولنگ کروائی۔

اس سریز میں وآپس آنے کے لیے اگلے میچ میں پاکستان کو کچھ مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ بعض سینیئر کھلاڑیوں کی مسلسل فارم میں نہ ہونے کے باوجود ٹیم میں موجودگی اب سوشل میڈیا پر کم سے کم پاکستانی شائقین کی برداشت سے باہر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اکثر و بیشترً ہم کھلاڑیوں سے سنتے ہیں کہ وہ ’ایڈجسٹ‘ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اگر آپ تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور پھر بھی ایڈجسٹ نہیں ہو پا رہے تو شاید بہتر ہے کہ کچھ عرصہ آرام کریں اور دوسروں کو کھیلنے کا موقع دیں۔

بات سیدھی سی ہے، اگر آپ مطلوبہ کام نہیں کر پارہے تو کسی اور موقع دیا جانا چاہیے۔

جیسا کے پاکستانی کوچ کل مکی آرتھر نے کل کہا ’اپنا کھیل بہتر کریں اور اگر نہیں کر پا رہے تو ہم کوئی ایسا کھلاڑی تلاش کریں گے جو کے ایسا کر سکے۔‘

اسی بارے میں