پریمیئر لیگ: فٹبالرز کی خریداری پر ایک ارب پاؤنڈ کا خرچ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مانچسٹر سٹی کے نئے مینجر نے ڈیفینڈر جان سٹونز کے لیے 47 کروڑ پاؤنڈ ادا کیے

پریمئر لیگ فٹبال کلبز نے اس موسمِ گرما میں کھلاڑیوں کے تبادلوں پر ریکارڈ ایک ارب سے زائد پاؤنڈز خرچ کیے ہیں۔

پریمئر لیگ فٹبال کلبز نے جمعرات کو کھلاڑیوں کے تبادلے آخری دن 15 کروڑ 55 لاکھ پاؤنڈ خرچ کیے۔

ایک دن پہلے ہی کھلاڑیوں کے تبادلے پر کلبز 1.005 ارب پاؤنڈ خرچ کر کے گذشتہ برس کا 80 کروڑ 70 لاکھ پاؤنڈ کا ریکارڈ توٹ چکا تھا۔

جمعرات کو کھلاڑیوں کے تبادلے پر آنے والے والے اخراجات 1.165 ارب پاؤنڈ تک پہنچ گئے۔

کھلاڑیوں کے تبادلے اور خرید و فروخت کے اس عمل میں 13 بڑے کلبوں نے اپنے ریکاڈ توڑ دیے۔

تبادلوں اور کھلاڑیوں کی خریداری کے علاوہ 20 پریمیئر کلبوں کو میچز کے نشریاتی حقوق کی فروخت سے پانچ ارب پاؤنڈ سے زیادہ کا منافع ہوا۔

مالیاتی کمپنی ڈیلوئٹ کے ڈین جونز نے کھلاڑیوں کے تبادلوں پر ریکارڈ رقم خرچ کرنے کی وجہ گذشتہ برس کے نشریاتی حقوق سے حاصل ہونے والی آمدن کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس کو دیکھتے ہوئے مختلف کلبوں نے کھلاڑیوں کے تبادلوں اور ان کی خریداری کے لیے اپنے اخراجات میں اضافہ کیا۔

ڈیلوئٹ کی شائع ہونے والی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سال 2016 میں پریمیئر لیگ میں شامل کلبوں نے اوسطاً کھلاڑیوں کی خریداری پر چھ کروڑ پاؤنڈ خرچ کیے جبکہ صرف آخری دن ساڑھے 15 کروڑ خرچ کر دیے اور اس سے پہلے 2013 میں آخری اس دن کا ریکارڈ قائم ہوا تھا جب 14 کروڑ پاؤنڈ خرچ کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ All SPort
Image caption صرف مینچسٹر شہر کی دونوں ٹیمیں یونائٹڈ اور سٹی نے مجموعی طور پر کھلاڑیوں کی خرید و فروخت پر 150 کروڑ پاؤنڈ کا خرچہ کیا

اس سال چیمپیئنز لیگ میں کھیلنے والے صرف چار کلبوں کے کھلاڑیوں کی خرید و فروخت پر مجموعی اخراجات 38 کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ تھے۔ ان کلبوں میں مانچسٹر سٹی، لیسٹر سٹی، آرسنل اور ٹوٹنہیم ہوٹسپر شامل ہیں۔

ان چاروں کلبوں کے کھلاڑیوں کے تبادلے اور خرید و فروخت پر کیے جانے والے اخراجات پریمیئر لیگ میں شامل تمام کلبوں کی طرف سے خرچ کی گئی رقم کا ایک تہائی حصہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تبادلے کے لیے دیے گئے مقررہ وقت کے عمل کو متعارف کرائے جانے کے بعد سے لے کر اب تک اخراجات میں 80 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

سابقہ انگلش فٹبال کھلاڑی ٹریور سنکلیئر نے اس بارے میں کہا کہ ’اس میں اتنی زیادہ رقم ہونے کی ایک وجہ رسد و طلب کے قانون کی ہے۔ لوگ پریمیئر لیگ دیکھنا چاہتے ہیں اور اس میں سب سے زیادہ فائدہ کھلاڑیوں کا ہی ہوگا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ’اگر اس سے کسی کا مالی فائدہ ہوگا تو وہ کھلاڑی ہیں، یہ سب انہی کی وجہ سے ممکن ہو پاتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption انگلش فٹبال کلب لیسٹر سٹی نے اپنی 132 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ انگلش پریمیئر لیگ کے چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا

اس سال جن کلبوں نے تبادلوں میں خرچ کی گئی رقم کے اپنے ہی پچھلے ریکاڈ توڑے ہیں ان میں مانچسٹر یونائٹڈ پہلے نمبر پر ہے جنھوں نے 8 کروڑ نوے لاکھ پاؤنڈ میں فرانسیسی کھلاڑی پال پوگبا کو اطالوی کلب یووینٹس سے خریدا۔ اس کے علاوہ مانچسٹر سٹی کے نئے مینیجر پیپ گارڈیولا نے ایورٹن کی طرف سے کھیلنے والے دفاعی کھلاڑی جان سٹونز کے لیے 4 کروڑ ستر لاکھ پاؤنڈ میں جبکہ مڈفیلڈر لیروائے سین کو شالکے کلب سے 3 کروڑ ستر لاکھ پاؤنڈ میں حاصل کیا۔

صرف مانچسٹر شہر کی دونوں ٹیمیں یونائٹڈ اور سٹی نے مجموعی طور پر کھلاڑیوں کی خرید و فروخت پر 15 کروڑ پاؤنڈ کا خرچہ کیا۔

لیورپول نے ساڈیو مین کو 3 کروڑ چالیس لاکھ، سندرلینڈ نے دیڈیر این ڈانگ کو ایک کروڑ 36 لاکھ ، کرسٹل پیلس نے کرسچن بینٹیک کو 3 کروڑ بیس لاکھ جبکہ رواس برس انگلش پریمیئر لیگ جیت کر سب کو حیران کر دینے والی ٹیم لیسٹر سٹی نے اسلام سلیمانی کو دو کروڑ 90 لاکھ اور ساؤتھ ہینپٹن نے صوفیان بوفل کو ایک کروڑ چھ لاکھ پاؤنڈ میں خریدا۔

یاد رہے کہ انگلش فٹبال کلب لیسٹر سٹی نے اپنی 132 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ انگلش پریمیئر لیگ کے چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا ۔

اسی بارے میں