’میچ کے آخر میں جیت دلانے والے کھلاڑی موجود نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ ٹیم میں اس وقت نہ تو تیز آغاز فراہم کرنے والے اور نہ ہی میچ کے آخر میں جیت دلانے والے کھلاڑی موجود ہیں۔

لیڈز کے ہیڈنگلے سٹیڈیم میں انگلینڈ کے ہاتھوں لگاتار چوتھے ون ڈے میچ میں پاکستان کی شکست کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ انھیں یہ بات کہتے ہوئے بالکل اچھا نہیں لگتا لیکن حقیقت یہ ہے پاکستان کی ون ڈے ٹیم رینکنگ میں نویں نمبر پر ہے اور وہ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟

٭ انگلینڈ نے پاکستان کو چار وکٹوں سے شکست دے دی

٭ پاکستان بمقابلہ انگلینڈ، چوتھا ایک روزہ میچ، تصاویر

ان کا کہنا تھا ’مجھے ان تمام کمزوریوں کا علم ہے لیکن ون ڈے ٹیم کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا، یہ چند دنوں میں ٹھیک نہیں ہو سکتی۔‘

‎ مکی آرتھر کے مطابق مستقبل میں پاکستان کی بہتر ٹیم بنانے کے لیے کھلاڑیوں پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے اور مجھے اب ان کھلاڑیوں کا کافی اندازہ ہو گیا ہے جن پر مزید محنت کی جا سکتی ہے۔

اس سوال پر کہ پاکستان کی ون ڈے ٹیم کی بہتری کی کوئی امید ہے ان کا کہنا تھا کہ وہ اگلے برس چیمپیئنز ٹرافی تک ایک بہتر کمبینیشن والی ٹیم بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ایک روزہ ٹیم اس وقت جس دور سے گزر رہی ہے وہ کمزور تو ہے لیکن انھیں ان کمزوریوں کا نہ صرف احساس ہے بلکہ اسے دور کرنے کے لیے انھیں معلوم ہے کہ کرنا کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا ’ایک بات بالکل واضح ہے کہ مجھے ٹیم میں وہ کھلاڑی چاہییں جو گیند کو گراؤنڈ سے باہر پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، جو فٹ رہنا جانتے ہوں اور ٹیم کی جیت میں اس وقت کردار ادا کر سکتے ہوں جب ٹیم کو ان کی ضرورت ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ ہمیں ایسے ہی کھلاڑیوں کو تلاش کرنا ہے اور ان میں وقت لگے گا۔

ون ڈے ٹیم کے کپتان محمد اظہر کی کارکردگی پر پاکستانی ٹیم کے کوچ کا کہنا تھا کہ وہ اظہر کی کارکردگی سمیت ڈریسنگ روم میں ان کے رویے اور کھلاڑیوں سے برتاؤ سے بھی مطمئن ہیں۔

اسی بارے میں