’ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کا مستقبل غیریقینی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مِکی آرتھر نے مئی میں پاکستانی ٹیم کا چارج سنبھالا تھا

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ مِکی آرتھر نے واضح کیا ہے کہ موجودہ ایک روزہ ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کا مستقبل غیریقینی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انھوں نے یہ بات ایک ایسے وقت پر کی جب لیڈز میں انگلینڈ کے خلاف چوتھے ایک روزہ میچ میں شکست نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ موجودہ ایک روزہ سیریز کا ایک اور میچ ہارنے کے بعد پاکستان شاید 2019 میں ہونے والے عالمی کپ کے لیے خودکار طریقے سے کوالیفائی نہ کر سکے۔

انگلینڈ کی ٹیم نے ہیڈنگلے میں ہونے والے چوتھے ایک روزہ میچ میں پاکستان کو چار وکٹوں سے شکست دینے کے بعد پانچ میچوں کی سیریز میں چار صفر سے برتری حاصل کر لی ہے۔

پاکستان نے اس سیریز کا آغاز آئی سی سی کی ون ڈے کرکٹ رینکنگ میں نویں نمبر سے کیا تھا اور موجودہ قوانین کے مطابق میزبان انگلینڈ اور اگلے سال ستمبر میں آئی سی سی رینکنگ کی سات ٹاپ کی ٹیمیں ہی ازخود 2019 کا عالمی کپ کھیلنے کی حقدار ہوں گی۔

ٹورنامنٹ کی دیگر دو ٹیموں کا فیصلہ 2018 میں بنگلہ دیش میں ہونے والے کوالیفائنگ راؤنڈ میں ہو گا۔ اس صورت حال میں 1992 کی چیمپیئن ٹیم پاکستان کے بغیر عالمی کپ مشکل تو دکھائی دیتا ہے لیکن ایسا ہونا ناممکن نہیں ہے۔

یہی وہ امکان ہے جو پاکستانی کرکٹ کے چاہنے والوں اور آئی سی سی کے اعلیٰ حکام کو پریشان کر رہا ہے، جنھیں پاکستان اور اس کے بڑے حریف انڈیا کے مابین میچ سے ہونے والے آمدنی ہاتھ سے جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

مِکی آرتھر، جنھوں نے مئی میں ہی پاکستانی ٹیم کا چارج سنبھالا تھا، کہا کہ میں وہی کہوں گا جیسی صورتِ حال اس وقت ہے۔ ’مجھے اس جملے سے نفرت ہے لیکن ہم دنیا میں نویں نمبر پر ہیں اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ گزشتہ چار میچ ان کے لیے چشم کشا ثابت ہوئے ہیں۔

’انگلینڈ کے پاس ایک زبردست ٹیم ہے جو پوری اننگز کے دوران پاورہٹنگ کر سکتی ہے۔ ہم اننگز کا تیز آغاز کرنے اور چوکے اور چھکے مارنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہمارے 15 کھلاڑیوں میں ایسے پاور ہِٹر ہیں ہی نہیں۔ میں جب انگلینڈ کے پاس موجود بلے بازوں کو دیکھتا ہوں تو اسے ناقابلِ یقین پاتا ہوں۔‘