ماضی کی بھولی بسری کرکٹ

تصویر کے کاپی رائٹ PA

ہم ٹیکنالوجی اور تبدیلی کے ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اس لیے اکثر ہماری توقع ہی ہوتی ہے کہ جو بھی نئی چیز سامنے آئے گی وہ ماضی کے مقابلے میں بہتر ہو گی۔

لیکن تبدیلی کے اس شوق کے باجود ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اس وقت خوشگوار حیرت ہوتی ہے جب اتفاقاً ہماری نظروں کے سامنے کوئی ایسی چیز آ جاتی ہے جس ہم بھلا چکے ہوتے ہیں مثلاً بیٹری کے بغیر چلنے والی گھڑی یا کوئی ایسی تصویری کتاب جس کے صفحے تیزی سے پلٹنے پر ساکت تصویریں حرکت کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

٭ انگلش بیٹنگ یا پاکستانی شادی کا کھانا؟

٭ پاکستان کی بلے بازی میں ’فائر پاور‘ کی کمی

٭ پاکستان کا موازنہ پاکستان سے ہی ہوسکتا ہے

ایک روزہ کرکٹ کے اس جدید دور میں جب بیٹ چوڑے اور میدان چھوٹے ہو گئے ہیں، ہم نے یہ بات قبول کر لی ہے کہ ہر میچ میں ایک پاگل پن ہو گا، ہر بلے باز چوکوں، چھکوں کی بھر مار کر دے گا اور ٹوٹل سکور اتنا زیادہ ہو جائے گا کہ اسے دیکھ کر آپ کے اوسان خطا ہو جائیں گے۔

اب پچھلے میچ کو ہی لیجیے۔ اس میچ میں انگلینڈ نے 50 اووروں میں 444 رنز بنا ڈالے۔ جوس بٹلر نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں دکھا دیا کہ جدید دور کا بلے باز کس طرح 360 ڈگری کے دائرے کے ہر زاویے پر شارٹ کھیل کر رنز بناتا ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ چوتھا ایک روزہ میچ بھی ایک خاص میچ تھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میچ نے ہمیں یاد دلا دیا کہ ماضی کے ایک روزہ میچ کیسے ہوا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

جمعرات کے میچ میں جو سب سے بڑا فرق دیکھنے میں آیا وہ ہیڈنگلے کی پچ تھی۔ ماضی کے دنوں میں کسی بھی میچ میں کھلاڑیوں کی خصوصیات یا خامیوں کی طرح ہر میدان کی پچ کا بھی اپنا مخصوص کردار ہوا کرتا تھا۔ مثلاً ہیڈنگلے کی پچ کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ سوئنگ بولروں کی جنت ہے۔ اس کے برعکس آج کل خاص طور پر سفید گیند سے کھیلے جانے والے میچوں میں توقع یہی کی جاتی ہے کہ ہر پچ ایک جیسی بے جان ہو گی اور بیٹنگ کے لیے بہترین ہو گی۔

یوں وہ دور کب کا ختم ہو گیا جب کھیل میں ہر پچ کا ایک کردار ہوا کرتا تھا اور اس کی جگہ جدید کرکٹ کے اس دور نے لے لی ہے جہاں دھواں دار بیٹنگ معمول بن چکی ہے۔ لیکن اب بھی جس میچ میں وکٹ بے جان نہیں ہوتی اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رنز بنانے کی رفتار اور وکٹیں گرنے کی تعداد ہمیں ایک مرتبہ پھر ماضی کی یاد دلا دیتی ہے۔

میرا خیال ہے کہ انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان جمعرات کو کھیلے گئے میچ میں کچھ ایسا ہی ہوا کیونکہ اس میں انگلینڈ کو پاکستان کی جانب سے دیے گئے کم ہدف کو حاصل کرنے میں مشکل ہو رہی تھی۔ یہاں تک کہ کئی مرتبہ ایسا لگا کہ انگلینڈ یہ میچ ہار جائے گا۔

محمد عرفان کی جانب سے تباہ کن بولنگ نے آغاز میں ہی انگلینڈ کے بلے بازوں کے پاؤں اکھیڑ دیے اور عرفان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عمر گل اور حسن علی نے بھی وکٹیں لے لیں۔ یکے بعد دیگرے چار کھلاڑیوں کے آؤٹ ہو جانے کے بعد انگلینڈ کی ٹیم کی نظریں بین سٹوکس اور جونی بیرسٹو پر لگ گئیں کہ وہ انھیں مشکل سے نکالیں اور بڑا سکور کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

دونوں کھلاڑیوں نے بہت عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن جب سٹوکس آؤٹ ہو گئے تو ایک مرتبہ پھر یہ لگا کہ میچ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے لیکن پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی کہ اس موقعے پر امپائرنگ کے کچھ قوانین اور بیزار کن اعتراضات کی وجہ سے عرفان کے دوبارہ بولنگ کروانے میں تاخیر ہو گئی اور پھر اس کے بعد اس وقت ان کی واپسی کی رہی سہی امید بھی ختم ہو گئی جب زخمی ہو جانے کی وجہ سے انھیں میدان سے باہر جانا پڑ گیا۔

عرفان کے جانے کے بعد پاکستان کے ہاتھ سے اہم ہتھیار نکل گیا اور آخر کار انگلینڈ نے پاکستان کا دیا ہوا ہدف حاصل کر لیا۔

لیڈز کی وکٹ اتنی ڈرانے والی بھی نہیں تھی لیکن اتنا ضرور ہے کہ وکٹ سست تھی اور اس پر گیند ٹرن ہو رہی تھی۔ عادل رشید اور معین علی نے متحدہ عرب امارات میں بھی پاکستانی سپنروں سے بہتر بولنگ کا مظاہرہ کیا تھا اور آج بھی انھوں نے بہتر بولنگ کا مظاہرہ کیا۔

آج بھی پاکستان کی بیٹنگ حسب معمول دبی دبی تھی جس میں اس وقت بہتری نظر آئی جب عماد وسیم نے ایک اچھی اننگز کھیل کر ٹوٹل سکور کو بہتر کیا۔ لیکن بولنگ میں عماد اتنی اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے اور شروع شروع میں گیند پر ان کا کنٹرول اچھا نہ رہا اور پھر جب گیند عماد کے قابو میں آئی تو پاکستان کے دوسرے سپنر محمد نواز گیند پر کنٹرول کو کھو بیٹھے اور یوں انگلینڈ بغیر کسی مزید نقصان کے میچ جیت گیا۔

اس میچ میں بھی پاکستان کی اچھی کارکردگی کا سہرا بولروں کو جاتا ہے جنھوں نے اچھی وکٹ کا فائدہ اٹھایا اور انگلش بلے بازوں کے لیے سکور کرنا مشکل ہو گیا۔

اس کے علاوہ پاکستان کو یہ فائدہ بھی ہوا کہ انگلینڈ نے اس پچ کے لیے اپنی ٹیم میں اہم تبدیلیاں کی تھیں اور شاید وہ یہ سیریز جیت جانے کے بعد اس میچ میں زیادہ جان نہیں لڑا رہے تھے لیکن اس کے باوجود انگلینڈ کی ٹیم اتنا اچھا ضرور کھیلی کہ انھوں نے پاکستان کے خلاف مسلسل آٹھواں ایک روزہ میچ جیت لیا۔

اسی بارے میں