ہیکروں نے سمون بائلز اور سرینا کی فائلیں افشا کر دیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سمون بائلز کو حالیہ دور کی سب سے بڑی جمناسٹکس سٹار سمجھا جاتا ہے

کھیلوں میں غیرقانونی ادویات کی روک تھام کرنے کے ادارے واڈا نے روسی ہیکروں پر تنقید کی ہے جنھوں نے امریکی اولمپک ایتھلیٹوں کے خفیہ طبی ریکارڈ افشا کیے ہیں۔

جو ایتھلیٹ اس سے متاثر ہوئے ہیں ان میں ٹینس سٹار سرینا ولیمز، وینس ولیمز اور جمناسٹ سمون بائلز شامل ہیں۔

’فینسی بیئرز‘ کہلانے والی ایک تنظیم نے واڈا کا ڈیٹا بیس ہیک کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اس واقعے کے بعد بائلز نے کہا ہے کہ وہ اے ڈی ایچ ڈی بیماری کے علاج کے لیے خاصے عرصے سے دوا لے رہی ہیں۔

ہیکروں کی تنظیم نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دماغ کو تقویت دینے والی دوا غیرقانونی طریقے سے استعمال کر رہی ہیں، تاہم بائلز کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ قواعد و ضوابط کی پاسداری کی ہے۔

یو ایس اے جمناسٹکس نے ایک بیان میں کہا کہ ریو اولمپکس میں چار طلائی تمغے حاصل کرنے والی بائلز نے واڈا سے ادویات استعمال کرنے کی اجازت لے رکھی ہے۔

واڈا نے ایک بیان میں کہا کہ یہ سائبر حملہ کھلاڑیوں کی جانب سے ممنوع ادویات کا استعمال روکنے کی عالمی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

روسی حکومت کے ایک ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یہ بات ’ناقابلِ تصور‘ ہے کہ اس ہیکنگ کے پیچھے روسی خفیہ اداروں کا ہاتھ ہے۔

ہیکروں نے اس مخصوص ریکارڈ تک رسائی حاصل کی ہے جس میں طبی مقاصد کی غرض سے استثنائی طور پر ممنوع ادویات استعمال کرنے والے کھلاڑیوں کے نام درج تھے۔

یو ایس اے جمناسٹکس نے کہا کہ ’بائلز نے ریو اولمپکس میں کوئی قانون نہیں توڑا۔‘

دوسری جانب فینسی بیئرز کا کہنا ہے کہ یہ استثنا دراصل ڈوپنگ کا کھلا اجازت نامہ ہے۔

روس کی ٹریک اینڈ فیلڈ ٹیم کو مبینہ طور پر ریاست کی پشت پناہی سے چلنے والے ڈوپنگ پروگرام کی وجہ سے ریو اولمپکس میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔ مزید برآں، اس کے تمام ایتھلیٹوں کو اس وقت جاری پیرالمپکس میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

واڈا کے ڈائریکٹر جنرل اولیور نگلی نے کہا: ’یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ مجرم عالمی اینٹی ڈوپنگ برادری کی جانب سے روس پر اعتماد بحال کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں