ہیکروں نے مزید کھلاڑیوں کی طبی معلومات افشا کردیں

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption واڈا کا کہنا ہے کہ یہ سائبر حملہ بین الاقوامی سطح پر انٹی ڈوپنگ سسٹم کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے

مبینہ طور پر روس سے تعلق رکھنے والے ہیکرز نے ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کی چوری شدہ مزید طبی معلومات افشا کی ہیں۔

جن کھلاڑیوں کے بارے میں معلومات جاری کی گئی ہیں ان میں ریو اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والے برطانوی سائیکلسٹ سر بریڈلے وگنز اور تین بار ٹور ڈی فرانس ریس جیتنے والے کرس فروم بھی شامل ہیں۔

سامنے آنے والی معلومات سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ کھلاڑی کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث تھے۔

واڈا کا کہنا ہے کہ یہ سائبر حملہ بین الاقوامی سطح پر اینٹی ڈوپنگ سسٹم کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

خود کو’فینسی بیئرز‘ کہلوانے والے گروپ کی جانب سے جاری کی گئی معلومات میں زیادہ تر کھلاڑیوں کو طبی بنیادوں پر غیرقانونی عناصر کے استعمال کی اجازت دینے سے متعلق ہیں۔

واڈا کے ڈائریکٹر اولویئر نگلی کا کہنا ہے کہ ’واڈا کو یہ احساس ہے کہ یہ مجرمانہ حملہ، جس نے آج لاپرواہی سے 29 کھلاڑیوں کی ذاتی معلومات افشا کی ہیں، ان کھلاڑیوں کے لیے پریشان کن ہے جنھیں نشانہ بنایا گیا ہے، اور ان تمام کھلاڑیوں کے لیے بھی تشویش مند ہے جنھوں نے ریو 2016 کی اولمپکس کھیلوں میں شرکت کی تھی۔‘

اولویئر نگلی کا کہنا تھا کہ اس بات میں ’کوئی شک نہیں‘ ہے کہ یہ ہیکنگ واڈا کی جانب سے روس کے سرکاری سطح پر بدعنوانی کی رپورٹ اور روسی حکومت سے اس کو روکنے کی درخواست کے بدلے کے طور پر کی گئی ہے۔

روسی حکام اس معاملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فروم کو ایک ممنوعہ قوت بخش دوا ’پروڈنیسولون‘ سنہ 2013 اور 2014 کے درمیان استعمال کی اجازت دی گئی

افشا ہونے والی معلومات دس امریکی، پانچ برطانوی، پانچ جرمن اور ڈنماک، روس، پولینڈ، جمہوریہ چیک اور رومانیہ کے ایک ایک کھلاڑی سے متعلق ہیں۔

اس سے قبل امریکی کھلاڑیوں کی ذاتی معلومات افشا کی گئی تھیں جن میں جمناسٹک مقابلوں میں کئی طلائی تمغے حاصل کرنے والی سائمن بائلز بھی شامل تھیں۔

ریکارڈ کے مطابق سائیکلسٹ وگنز کو دو ممنوعہ ادویات سنہ 2008 اور 2013 کے درمیان کئی مواقع پر استعمال کی اجازت دی گئی تھی جن میں سے ایک بار سنہ 2011 کے ٹور ڈی فرانس اور سنہ 2013 میں گرو ڈی اٹالیہ کے دوران بھی شامل تھی۔

اسناد کے مطابق ان میں سے ایک دوا ’ٹریمسینولون ایسٹونائڈ‘ پولن الرجی کے لیے استعمال کی گئی تھی۔

فروم کو ایک ممنوعہ قوت بخش دوا ’پروڈنیسولون‘ سنہ 2013 اور 2014 کے درمیان استعمال کی اجازت دی گئی جس میں سنہ 2013 کی ٹور آف رومانڈی ریس کے دوران استعمال کی اجازت بھی شامل تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں