’تم یہ ٹیسٹ نہیں کھیل رہے ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ ABDUR RAQIB
Image caption عبد الرقیب نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں تقریباً ساڑھے چھ سو وکٹیں حاصل کیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کے بارے میں وہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ انسان سب سے لڑ سکتا ہے اپنی قسمت سے نہیں

کرکٹ میں کارکردگی کی اہمیت اپنی جگہ لیکن قسمت کا عمل دخل بھی کم اہم نہیں۔

قسمت مہربان ہو تو کرکٹر پر ٹیسٹ کرکٹ کے بند دروازے اچانک کھل جاتے ہیں لیکن اگر قسمت مہربان نہ ہو تو کرکٹر ٹیسٹ کرکٹ کے بہت قریب آکر بھی میدان سے باہر ہی رہتا ہے۔

ذرا سوچیے اُس کرکٹر کی کیا حالت ہوگی جسے کپتان میچ سے پہلے یہ نوید سنا دے کہ وہ آنے والے ٹیسٹ میچ کی گیارہ رکنی ٹیم کا حصہ ہے۔ میچ کی صبح بھی وہ کرکٹر ٹیم میں شامل ہے لیکن ٹاس سے پہلے اچانک اس کی قسمت پلٹ جائے اور وہ ٹیم سے باہر ہوجائے۔

فرسٹ کلاس کرکٹر عبد الرقیب کے ساتھ یہی کچھ 80-1979 کے دورہِ بھارت میں ہوا اور وہ کانپور ٹیسٹ میچ کھیلتے کھیلتے رہ گئے۔ گویا ایک بہت بڑی خوشی قریب سے گزرگئی۔

’بھارت کے دورے پر جانے والی ٹیم میں اقبال قاسم اور عبدالقادر شامل تھے لیکن کپتان آصف اقبال کے کہنے پر ہی تیسرے سپنر کے طور پر مجھے سکواڈ میں شامل کیا گیا تھا۔ کانپور ٹیسٹ سے قبل ہونے والے سائیڈ میچ میں میں نے اچھی بولنگ کی تھی جس پر آصف اقبال نے ٹیسٹ میچ سے دو روز پہلے مجھ سے کہا کہ تم ذہنی طور پر تیار رہو۔ تم کانپور میں اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز کروگے۔‘

’جب کانپور ٹیسٹ کا وقت آیا تو ٹیم بن چکی تھی اور میں اس میں شامل تھا لیکن جب آصف اقبال اور سنیل گاوسکر ٹاس کے لیے جانے والے تھے تو آصف اقبال آدھے راستے پر پہنچ کر اچانک پلٹے اور مجھے آواز دی اور کہا کہ رقیب! تم یہ ٹیسٹ نہیں کھیل رہے ہو اور احتشام الدین سے کہو کہ فوراً تیار ہوجائے۔ یہ کہہ کر انھوں نے مجھے فوری طور پر قلم لانے کو کہا اور ٹیم شیٹ میں میرا نام کاٹ کر انھوں نے احتشام الدین کا نام لکھ دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’جب آصف اقبال اور سنیل گاوسکر ٹاس کے لیے جانے والے تھے تو آصف اقبال آدھے راستے پر پہنچ کر اچانک پلٹے اور مجھے آواز دی اور کہا کہ رقیب! تم یہ ٹیسٹ نہیں کھیل رہے ہو۔‘

’دلچسپ بات یہ ہے کہ احتشام الدین چونکہ تیرہ کھلاڑیوں میں بھی شامل نہیں تھے اس لیے وہ اپنے اضافی سپائکس بھی نہیں لائے تھے۔ یہ کام بھی مجھے ہی کرنا پڑا اور ہوٹل جاکر ان کے جوتے لانے پڑے۔‘

عبدالرقیب کپتان آصف اقبال کے اس اچانک فیصلے کو کانپور کی تیز پچ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

’آسٹریلیا کے خلاف کانپور ٹیسٹ میں بھارتی سپنرز شیو لعل یادو اور دلیپ دوشی نے وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن پاکستان کے خلاف سیریز میں جب بھارت کو پتہ چلا کہ عمران خان زخمی ہوگئے ہیں تو گرین پارک کی وکٹ پر گھاس رہنے دی گئی تھی۔‘

واضح رہے کہ کانپور ٹیسٹ میں احتشتام الدین اور سکندر بخت نے وکٹ سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کی پہلی اننگز میں پانچ پانچ وکٹیں حاصل کرڈالی تھیں۔

عبد الرقیب کی بدقسمتی کانپور ٹیسٹ تک ہی محدود نہ رہی بلکہ وہ سیریز کا آخری ٹیسٹ بھی کھیلنے سے رہ گئے۔

’سیریز کا آخری ٹیسٹ کلکتہ میں تھا اور یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ تسلیم عارف کے علاوہ مجھے بھی ٹیسٹ کیپ مل جائے گی لیکن میچ سے دو روز قبل نیٹ پریکٹس کے دوران وسیم راجہ کا تیز شاٹ میرے ہاتھ پر لگا اور انگوٹھے کے قریب سات ٹانکے آئے ۔ یوں کلکتہ ٹیسٹ کھیلنے کا ممکنہ چانس بھی میرے ہاتھ سے نکل گیا۔‘

عبد الرقیب کا شمار پاکستانی فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنے دور کے چند بہترین لیفٹ آرم اسپنرز میں ہوتا تھا لیکن انھیں اس بات کا ہمیشہ افسوس رہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹوں کے ریکارڈ کے باوجود وہ پاکستانی ٹیم میں شامل نہ ہوسکے۔

’78-1977 ء کے سیزن میں میں نے صرف تیرہ میچوں میں بانوے وکٹیں حاصل کر کے انتخاب عالم کا ریکارڈ توڑا تھا اور یہ بات یقینی نظر آ رہی تھی کہ مجھے انگلینڈ کے دورے میں شامل کر لیا جائے گا لیکن سلیکشن کمیٹی نے میرے ساتھ زیادتی کی اور میری جگہ نعیم احمد ٹیم میں شامل کر لیے گئے۔ اس دورے میں اگر کسی اسپنر کاحق بنتا تھا تو وہ میں تھا۔‘

عبد الرقیب نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں تقریباً ساڑھے چھ سو وکٹیں حاصل کیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کے بارے میں وہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ انسان سب سے لڑ سکتا ہے اپنی قسمت سے نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں