’میں نئے دور کا جیفری بائیکاٹ ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Betty

بنگلہ دیش کے دورے کے لیے انگلینڈ کی ٹیم میں شامل کیے گئے پاکستانی نژاد کھلاڑی حسیب حمید نے کہا ہے کہ وہ جدید دور کے جیفری بائیکاٹ کے طور پر پہنچانے جانا پسند کرتے ہیں۔

19 سالہ حسیب حمید ان تین نئے کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنھیں اگلے ماہ شروع ہونے والے دورہِ بنگلہ دیش کے لیے ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

حسیب حمید کی طرح جیفری بائیکاٹ بھی انگلینڈ کے اوپنر تھے اور انھوں نے 1964 سے 1982 کے دوران کھیلے جانے والے 108 ٹیسٹوں میں 47 کی اوسط سے 8114 رنز بنائے تھے۔

انھوں نے بی بی سی فائیو لائیو کو بتایا کہ بائیکاٹ کا بہت اچھا کیریئر تھا اس لیے ان سے مقابلہ کیا جانا ان کے لیے کوئی بری بات نہیں ہے۔

حسیب حمید انگلینڈ کی انڈر 19 ٹیم کے سابق کپتان ہیں اور انہیں ’بے بی بائیکاٹ‘ کہا جاتا ہے۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ میں جدید دور کا بائیکاٹ ہوں۔ میرے پاس دکھانے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے۔‘

جہاں جیفری بائیکاٹ دنیا کے چھٹے سب سے زیادہ رنز بنانے والے ٹیسٹ کھلاڑی ہیں، حسیب حمید نے اگست 2015 میں لنکا شائر کی طرف سے اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز کرنے کے بعد صرف 19 فرسٹ کلاس میچ کھیلے ہیں۔

انھوں نے موجودہ سیزن میں کاؤنٹی چیمپیئن شپ ڈویژن ون میں چار سینچریوں اور 7 نصف سینچریوں کی مدد سے 1129 رنز بنائے ہیں۔

ٹیم میں شامل کیے گئے دوسری پاکستانی نژاد کھلاڑی ظفر انصاری نے اس بات پر بہت مسرت کا اظہار کیا ہے کہ انگلینڈ نے ان پر 12 ماہ تک زخمی ہونے کی وجہ سے ٹیم سے باہر رہنے کے باوجود ان پر اعتماد کیا ہے۔

ظفر انصاری کا 2015 میں بھی ٹیم میں شامل ہونے کا امکان تھا لیکن انگوٹھا زخمی ہونے کی وجہ سے انھوں نے یہ موقع کھو دیا۔ اس سال مئی میں ان کی اسی انگوٹھے میں دوبارہ چوٹ آئی تھی۔

2016 میں چیمپیئن شپ کے دوران انہوں نے 31 کی اوسط سے 22 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

’انگلینڈ نے میرا اچھا خیال رکھا، انھوں نے مجھے مثبت رکھا۔ مجھے امید ہے کہ میں اس کا بدلہ چکا پاؤں گا۔‘

متعلقہ عنوانات