پاکستان ابھی تک پرفیکٹ الیون نہیں بن پایا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک میچ دس وکٹوں سے جیتنے والی ٹیم اپنا اگلا میچ دس وکٹوں سے ہی ہار جائے؟

٭ پاجاما کرکٹ میں پاکستان ناکام

٭’میچ کے آخر میں فتح دلانے والے کھلاڑی موجود نہیں‘

شائقین کو اس قدر حیران کرنے کی ’صلاحیت‘ صرف دو ٹیمیں رکھتی ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی دو ٹیمیں آئندہ چند ہفتوں کے دوران متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں ٹکرائیں گی۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز دونوں کی ٹیمیں ناقابل یقین حد تک اچھی اور بری پرفارمنسز دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں ٹیموں میں بے پناہ ٹیلینٹ ہے، انتظامی امور ہمیشہ مسائل کا شکار رہتے ہیں، اور تسلسل کا فقدان بھی ایک مشترک قدر ہے۔

ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کا پلڑا بھاری ہے، کیرنپولارڈ اور کپتان براتھ ویٹ جیسے آل راؤنڈرز کی بدولت وہ کسی بھی ناممکن صورتحال میں سے جیت اچک لینےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے فائنل میں ویسٹ انڈیز نے آخری اوور میں جیسے چار چھکوں کی بدولت میچ جیتا تھا، وہ شاید باقی دنیا کے لیے حیرت کی بات ہو مگر ویسٹ انڈین کرکٹ سے واقف لوگوں کے لیے یہ ایک معمولی بات تھی کیونکہ یہی غیریقینی نتائج حاصل کرنے کی خاصیت اس ٹیم کی وجۂ شہرت ہے۔

سنیل نارائن یو اے ای کی سپن وکٹوں پہ بہت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ عماد وسیم اور نواز کو بھی سپن وکٹوں کا بہت فائدہ ہو گا۔ ٹی ٹوئنٹی میچز زیادہ دلچسپ اور کانٹے دار ہوں گے کیونکہ اگر بیٹسمین سپن کو کھیلنا جانتا ہو تو چوکوں، چھکوں کی برسات سے میچ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے۔

خالد لطیف اپنی بیک فٹ تکنیک کی وجہ سے سپن کے خلاف زیادہ موثر ہوں گے۔ بابر اعظم سپن اور فاسٹ دونوں کو اچھا کھیلتے ہیں اور ہر فارمیٹ میں اچھا کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

لیکن، جیسا کہ وسیم اکرم کہتے ہیں، ٹی ٹوئنٹی ایک تکا ہے جو کبھی بھی کسی کا بھی لگ سکتا ہے سو تمام تر معروضی حقائق کے باوجود کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کون جیتے گا۔

ون ڈے میں دونوں ٹیمیں برابر کے جوڑ کی ہیں۔ مصباح، یونس اور آفریدی کے جانے کے بعد پاکستان ابھی تک پرفیکٹ الیون نہیں بنا پایا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ویسٹ انڈیز کا ہے جہاں بورڈ کے ناقابل فہم فیصلوں کے طفیل ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ جس کی جانب اشارہ کپتان نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی فتح کے بعد تقریر میں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

لیکن ویسٹ انڈیزکی پلئینگ الیون پاکستان کے مقابلے میں بہرحال زیادہ مستحکم ہے مگر مسئلہ ٹیمپرامنٹ کا ہے۔ ویسٹ انڈین بیٹسمین 50 اوورز میں 400 کرنے کی بجائے 25 اوورز میں 300 رنز کر کے آل آؤٹ ہونے کو ترجیح دیتےہیں۔

پاکستان ماڈرن ون ڈے گیم میں ابھی خاصا پیچھے ہے۔ کوچ مکی آرتھر بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان ون ڈے ٹیم ابھی تک 2002 والی کرکٹ کھیل رہی ہے۔

ڈومیسٹک لیول پر ون ڈے میچز نہ ہونے کے برابر ہیں اور، مصباح کے خیال میں یہ پاکستان ون ڈے کرکٹ کے زوال کا باعث ہے۔

مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ انگلینڈ کے خلاف آخری ون ڈے میچ میں پاکستان نے توقعات سےکہیں بہتر پرفارم کیا اور امید ہے کہ یو اے ای میں اظہرعلی کی ٹیم زیادہ بہتر پرفارم کرے گی۔

انگلینڈ کے خلاف سیریز میں یہ نظر آیا ہے کہ اظہر بطور کپتان مسلسل بہتری کی طرف گامزن ہیں اور محض ایک سیریز کی جیت انہیں اور ٹیم کو بہترمستقبل کی راہ دکھا سکتی ہے۔ ون ڈے میں مقابلہ برابر کا ہو گا اور قوی امکان ہے کہ ون ڈے سیریز میں پاکستان کا پلہ بھاری رہے گا۔

ٹیسٹ میں پاکستان چیمپئین ہے۔ جب کہ ویسٹ انڈیزکی ٹیسٹ ٹیم ابھی تک سیٹل نہیں ہو پائی۔ انڈیا کے خلاف سیریز ہارنے کے بعد ان کا مورال یوں بھی گر چکا ہے کہ پاکستان کو یو اے ای میں ہرانا اُن کے لیے کافی مشکل ہو سکتا ہے۔

پاکستان انہی میدانوں میں آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسی صفِ اوّل کی ٹیموں کو کلین سویپ کرچکا ہے۔

ویسٹ انڈین بیٹنگ اپنے ٹیمپرامنٹ اور سپن وکٹوں پہ پاکستانی بالنگ کے سبب دباؤ کا شکار رہےگی۔ مگر چونکہ ویسٹ انڈین وکٹس بھی سست ہیں تو شاید یو اے ای کی وکٹس پہ ویسٹ انڈیز ویسی مشکلات کا شکار نہ ہو جیسی آسٹریلیا اور انگلینڈ کو درپیش آئی تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں