وہ مشینیں جو کبھی دفاتر کا لازمی حصہ تھیں

آپ نے بھی یقیناً کچھ ایسی مشینوں پر کام کیا ہو گا جو آج کے دور کے نئے ملازمین کے لیے ایک عجوبے سے کم نہیں ہوں گی۔

فیکس مشینیں ہوں یا پیجر یا پھر چھوٹی سی کار جتنی فوٹو سٹیٹ مشینیں اپنے وقت کے جدید ترین آلات تھے لیکن دیکھتے ہی دیکھتے پرانے ہوگئے اور ان کی جگہ نئی مشینوں نے لے لی۔

اس کی وجہ بنی وہ ٹیکنالوجی جو بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ وہ پرانی مشینیں کسی کام کی نہیں رہ گئیں، لیکن نئی چیزوں کی تخلیق کے لیے اشارے انھی پرانی چیزوں سے ملتے ہیں۔

بہت مرتبہ تو ہم ان مشینوں سے ہی مزید کچھ سیکھتے بھی ہیں۔ ساتھ ہی ان سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت دفاتر میں کام کرنے کے ماحول کیسا تھا اور آج ہم کس طرح کام کر رہے ہیں۔

یہاں آپ کو کچھ ایسی ہی ایجادات کے بارے میں بتاتے ہیں جو اپنے دور میں کسی خزانے سے کم نہیں تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Empics

مامیوگراف

اگر 1980 سے پہلے سکول میں رہے ہوں تو یقیناً آپ کو ماميوگراف مشین ضرور یاد ہوگی۔ الیکٹرانک کاپی مشین کے عام ہونے سے قبل ہر سکول، کالج کے دفتر میں یہ مشین ضرور ہوتی تھی۔

اس مشین سے کسی بھی کاغذ کی نقل تیار ہو جاتی تھی جس کے لیے ایک رولر استعمال ہوتا تھا جو ہتھ چرخی یا پھر موٹر سے منسلک ہوتا تھا۔ کئی دہائیوں تک کاغذات کی نقل بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی یہی تھی۔

ماميوگراف مشین ایجاد یوں تو 1880 میں ہوئی تھا لیکن نئے ڈیزائن کے ساتھ یہ سنہ 1900 میں سامنے آئی اور 1960 کی دہائی تک اس نے اپنا دبدبہ برقرار رکھا۔

سنہ 1959 میں زیروکس کمپنی نے جب نئی کاپیئر مشین تیار کی، تو ماميوگراف کی اہمیت کم تو ہوئی لیکن اس کا خاتمہ نہیں ہوا جس کی وجہ زيروكس مشین کی اپنی کچھ کمزوریاں تھیں۔

زیروکس کی سیاہی مہنگی تھی اور اس میں خرابی کے امکانات بھی زیادہ تھے جبکہ پرانی مامیوگراف شاذونادر ہی خراب ہوتی تھی اور اس میں بھری جانے والی سیاہی بھی بہت سستی تھی۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ مامیوگراف ہماری زندگی سے نکلتی چلی گئی اور آج کی نسل اس کے بارے میں جانتی بھی نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

لیمبرٹ ٹائپ رائٹر

کمپیوٹر کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے آج کے دور میں دفاتر میں ٹائپ رائٹرز کا استعمال انتہائی کم ہو گیا ہے مگر ایک دور میں یہ بےحد اہم تھے۔

فرانس سے تعلق رکھنے والے لیمبرٹ کا بنایا ہوا ٹائپ رائٹر دنیا کا سب سے پہلا ٹائپ رائٹر بن سکتا تھا تاہم انھوں نے اسے دنیا کے سامنے متعارف کروانے میں بہت وقت لگا دیا۔

ان کا یہ ٹائپ رائٹر انوکھا تھا جس کا گول کی بورڈ ایک افقی مشین کے اوپر حرکت کرتا رہتا تھا تاہم جب یہ سامنے آیا اس وقت تک انڈروڈ کا سٹینڈرڈ ٹائپ رائٹر بازار میں اپنی جگہ بنا چکا تھا اور لیمبرٹ کا ٹائپ رائٹر پرانا سا لگنے لگا تھا۔

لہذا لیمبرٹ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ان کا ٹائپ رائٹر اپنی ایجاد کے وقت ہی بیکار ہو گیا تھا۔

یہ ایک سبق آموز کہانی ہے کہ جب تک مارکیٹ کی طلب کو دیکھتے ہوئے کوئی چیز بازار میں نہیں اتاری جائے گی اس وقت تک آپ کو کاميابي نہیں مل سکتی۔

مثلاً مائیکروسافٹ موبائل کے بازار میں ایپل اور دوسری آئی ٹی کمپنیوں کے بعد آیا اور اس وقت تک یہ کمپنیاں اس بازار پر اپنی گرفت مضبوط کر چکی تھیں۔

مائیكروسافٹ کے موبائل نے تعریفیں تو خوب بٹوریں اس کے باوجود بین الاقوامی بازار میں اس کی حصہ داری صرف ایک فیصد تک رہ گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

ڈكٹا فون

ایک زمانے میں کاروباری کمپنیوں کے بڑے افسران خط و کتابت خود نہیں کرتے تھے۔ جو بھی مضمون لكھوانا ہوتا تھا، اسے وہ ڈکٹا فون نامی ریکارڈنگ مشین میں اپنی آواز میں محفوظ کر دیتے تھے جسے سن کر ان کا سٹینوگرافر ٹائپ رائٹر کی مدد سے لکھ دیتا تھا۔

اس کی شروعات 1881 میں ٹیلیفون ایجاد کرنے والے گراہم بیل کی کمپنی نے کی تھی اور 1970 کی دہائی تک بھی تقریباً تمام بڑے کاروباری ایگزیکیٹو اسے خیالات محفوظ کرنے، خطوط لکھوانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

ابتدائی ڈکٹا فونز میں ریکارڈنگ کے لیے موم کی لپائی والے کارڈ بورڈ سلینڈر استعمال کیے جاتے تھے اور ٹیپ والی مشینیں 1970 کی دہائی میں متعارف ہوئیں۔

لیکن 1980 کی دہائی کے وسط تک ڈكٹافون کی اہمیت بالکل ختم ہو گئی اور ان کی جگہ پہلے ورڈ پروسیسرز اور پھر کمپیوٹرز نے لے لی۔

اگرچہ ڈكٹافون سے لفظ پروسیسر تک کا سفر طے کرنے میں کئی دہائیاں لگیں جبکہ آج ہم چند ماہ کے اندر ہی اپنی چیزیں بدل دیتے ہیں کیونکہ نئی ٹیکنالوجی سامنے آ جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ iStock

دی آئسولیٹر

آج کے دفاتر میں عموماً ملازمین ایک کھلی جگہ میں ایک ساتھ بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ شور شرابا بھی خوب ہوتا ہے اور کام پر توجہ دینے کی غرض سے ملازمین ہیڈ فون لگا لیتے ہیں۔

1925 میں سائنس فکشن مصنف ہیوگو جرنزبیك نے ایک ایسے ہیلمٹ کا خیال پیش کیا تھا، جسے پہن کر آدمی بیرونی دنیا کے شور اور مناظر سے دور ہو جاتا تھا۔

انھوں نے اسے آئسولیٹر کا نام دیا تھا۔ اس میں دو سوراخ بنائے گئے تھے، جن کی مدد سے باہر کا منظر دیکھا جا سکتا تھا۔

اس طرح آپ صرف اور صرف اپنے کام پر ہی توجہ مرکوز کر سکتے تھے۔ اسے بنانے کا آئیڈیا اگرچہ اپنے وقت سے آگے کی چیز تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا جا سکا۔

اگر آج کسی کو سب کے درمیان رہتے ہوئے بھی سب بےخبر ہو کر صرف اپنا کام کرنے کی ضرورت ہو تو وہ اس آئسولیٹر کو آزما سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ابیکس سے ایک قدم آگے

آج ہم جس کیلکولیٹر کا استعمال کرتے ہیں وہ گنتی کرنے کی ایک جدید مشین ہے۔ اس سے پہلے جس طرح کے کیلکولیٹر کا استعمال ہوتا تھا، وہ بہت بڑا تھا۔

منرو كیلكلیٹنگ مشین کمپنی نے سنہ 1914 میں ایک کیلکولیٹر بنایا تھا جس میں ایک خاص طریقے سے نمبر فیڈ کرنے پر ہی وہ صحیح جواب ملتا تھا۔ل

لہٰذا اسے استعمال کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی لیکن پھر بھی طویل عرصے تک لوگ اسے استعمال کرتے رہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ لوگ نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے تیار نہیں تھے۔

اگرچہ یہی کام کمپیوٹر سافٹ ویئر کے ذریعہ زیادہ جلدی ہو جاتا تھا۔

لیکن پھر بھی وہ پرانی ٹیکنالوجی سے ہی کام کرنے کو ترجیح دیتے تھے کیونکہ وہ اس مشین کے ساتھ زیادہ آرام دہ محسوس کرتے تھے۔

لیکن نئی ٹیکنالوجی کے آگے پرانی ٹیکنالوجی زیادہ دن نہیں رک پاتی لہٰذا اس پرانے کیلکولیٹر کو بھی رخصت ہونا ہی پڑا۔

متعلقہ عنوانات