ایک قسم کی خوراک پر زندگی ممکن ہے؟

غذا تصویر کے کاپی رائٹ iStock

روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اپنی غذا میں انواع و اقسام کے اجزا کو شامل کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔ لیکن اگر حالات ایسے ہوں کہ آپ کو زندہ رہنے کے لیے صرف ایک چیز کھانے کو میسر ہو، تو وہ کون سی چیز ہو گی؟

کوئی شخص صرف ڈبل روٹی پر تو زندہ نہیں رہ سکتا، ورنہ مہینے بھر میں اس کو سکروی کا مرض لاحق ہو جائے گا جس میں انسانی جسم میں وٹامن سی کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

غذا کی بہترین منصوبہ بندی وہی ہوتی ہیں جن میں مختلف طرز کی غذائیں شامل ہوں جن کی مدد سے انسانی جسم میں وٹامن سی، فولاد، اور دوسری غذائیت سے بھرپور اجزا کی کمی نہ ہو۔

'پراسیسڈ گوشت سے دمے کے مرض میں اضافہ'

پاکستان میں مشروم کی پیداوار میں ریکارڈ کمی

حتی کہ وہ ڈائیٹنگ پلان جن میں توجہ چند مخصوص اجزا پر ہوتی ہے، ان میں بھی انواع و اقسام کی چیزیں شامل ہوتیں ہیں جن کی مدد سے انسان کو غدائیت سے بھرپور کھانا ملتا ہے۔

لیکن پھر بھی، اگر تصور کریں کہ آپ کو زندہ رہنے کے لیے صرف ایک چیز کھانے کو نصیب ہو، تو کیا وہ غذا اپنی افادیت میں دوسری غذاؤں سے زیادہ مفید ہو سکتی ہے؟ اچھی صحت کے لیے کیا آپ صرف آلو، یا کیلے پر گزارا کر سکتے ہیں؟

ایک بات طے ہے۔ اس غذا کے پلان میں صرف گوشت، سبزی اور پھل نہیں ہوں گے۔ گوشت میں نہ فائبر ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی وٹامن اور دوسرے مفید اجزا۔ پھلوں اور سبزیوں میں وٹامن ضرور ہوتے ہیں لیکن ان میں پروٹین بالکل نہیں ہوتی۔ یہ ضروری اجزا جسم کو زندہ رکھنے کے لیے تو شاید اتنے ضروری نہیں لیکن ان کو چھوڑنا صحت کے لیے غیر مناسب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ iStock
Image caption شمالی کینیڈا میں رہنے والے لوگ خرگوش کا گوشت زیادہ کھاتے ہیں

سارا سال برفیلے قطبِ شمالی میں تحقیق کرنے والے واہلمار سٹیفانسن نے شمالی کینیڈا میں رہنے والے افراد کے بارے میں بتایا کہ وہاں کے رہائشی صرف خرگوش کا گوشت کھانے کی وجہ سے بیمار ہو جاتے ہیں اور انھیں اسہال ، اور دوسری تکالیف شروع ہو جاتی ہیں۔

یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ جسم کے لیے ضروری کیلوریز کے لیے صرف پروٹین پر منحصر کرنا مناسب نہیں ہے ورنہ اس کی وجہ سے جگر کے کام کرنے کی صلاحیت اثر انداز ہوتی ہے۔

گلاسگو کلیڈونین یونی ورسٹی میں غذایئت کی ماہر جینی جیکسن کے مطابق اگر گوشت، بیشتر سبزیاں اور پھل میسر نہیں ہیں تو ان کے بدلے آلو کھانا ایک مناسب نعم البدل ہے۔

آلو کی خاص بات یہ ہے کہ نشاستے سے بھرپور ہونے کے باوجود اس میں بڑی مقدار میں پروٹین اور انسانی جسم کے لیے مفید آمائنو ایسڈ موجود ہوتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب آلو میں مقررہ معیار کے مطابق چکنائی کی کمی ہوتی ہے۔ جینی جیکسن نے کہا کہ آلو میں وٹامنز اور نمکیات بھی کم ہوتے ہیں۔

لیکن صرف غذائیت کے علاوہ بھی دیکھا جائے تو کھانے کے لیے صرف ایک چیز کا استعمال کرنے میں کئی رکاوٹیں ہیں۔ انسانوں کے جسم کے اندر ایسے طریقہ کار ہوتے ہیں جو صرف ایک چیز کو کھانے سے جسم کو روکتے ہیں۔ ان کی مدد سے اگر مسلسل ایک ہی طرح کی غذا کھائی جائے تو وہ کھانا ہضم نہیں ہوتا۔

یہ منطق کہ کوئی ایسی غذا جس میں ہر طرح کی غذائیت شامل ہو اور اس کو کھانے سے انسان کی تمام غذائی ضروریات پوری رہیں گی، درست نہیں ہے۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ دور جدید میں غذائیت کو کیسے تصور کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ iStock

محقیقن نے بیسویں صدی کے آغاز میں تحقیق کے لیے استعمال ہونے والے چوہوں کو کچھ مخصوص غذائیں دینا بند کر دیں اور اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا وہ چوہے بیمار ہوئے یا مر گئے۔ اس تحقیق کی مدد سے پتہ چلا کہ وٹامنز کی کیا اہمیت ہے اور ان کے نہ کھانے سے کتنا نقصان ہوتا ہے۔

البتہ یہ بات بھی مد نظر رکھنا ہو گی کہ متوازن غذا کے فوائد کی معلومات تجربہ گاہ میں کیے جانے والے تجربات کی مدد سے سو فیصد درست قرار نہیں دی جا سکتیں۔

انسانوں کو لاحق ہونے والی وبائی بیماریوں کے اعداد و شمار سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مختلف انواع کی سبزیاں کھانا صرف چند سبزیاں کھانے کے مقابلے میں بہتر ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہے۔

اگر کھانے میں ہری سبزیاں نہ کھائی جائیں تو اس کے مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں کینسر ہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

جینسی جیکسن کہتی ہیں کہ 'ہمیں یہ صحیح طرح سے نہیں علم کہ کون سی غذا کس طرح سے اثر انداز ہو رہی ہے۔ البتہ ہم موجودہ معلومات کی روشنی میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ غذائیت حاصل کرنے کے لیے کیا کھانا چاہیے لیکن یہ نہیں بتا سکتے کہ ہم کیا نہیں کھا رہے ہیں۔'

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صرف ایک جزو پرمبنی غذا وقت اور مصیبت تو ضرور بچاتی ہیں لیکن اس سے صحت کی خرابی بھی اتنی جلدی ہی ہوتی اور ساتھ ساتھ بوریت بھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں