موسمِ بہار میں خودکشیاں کیوں بڑھ جاتی ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ iStock
Image caption ڈاکٹر فوٹس پاپاڈوپولس نے 1200 خودکشیوں اور موسمی حالات کا جائزہ لیا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق خودکشیوں کی تعداد اور مریض کے دھوپ میں گزارے گھنٹوں کی تعداد میں مماثلت ہے۔

انیسویں صدی کے آغاز سے ہی ایسی تحقیق موجود ہے جس کے مطابق موسمِ بہار میں خودکشی کرنے والوں لوگوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔

اسی رجحان کی جانچ پڑتال کرنے والے، سوئیڈن کی یپسلہ یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر فوٹس پاپاڈوپولس کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ موسمِ سرما میں ہونے والی خودکشیوں کی تعداد یا شرح کو معیار بنا لیں تو موسمِ بہار میں خودکشیاں 20 سے 60 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔‘

یہ بات عجیب سی لگتی ہے۔ آخر خراب موڈ کا تعلق تو قدرے کم روشنی والے دنوں سے جوڑا جاتا ہے۔ مگر حقیقت ایسی کیوں ہے؟

اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے، سیروٹونن کی سطح میں تبدیلی۔ سیروٹونن دماغ میں ایک نیرو ٹرانزمٹر ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جتنا وقت کوئی شخص دھوپ میں گزارتا ہے اس کے خون میں انتی زیادہ سیروٹونن کی پیداوار ہوتی ہے۔ اسی لیے اس کی اوسطً مقدار موسمِ گرما میں زیادہ ہوتی ہے۔

اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔ سلیکٹیوو سیروٹونن ری اپٹیک انہیبیٹر اینٹی ڈپریسنٹ (یعنی ڈپریشن کی شدت کو کم کرنے والی ادویات) جن کا کام سیروٹونن کو بڑھانا ہے، وہ کچھ مریضوں میں خودکشی کا باعث بنے ہیں۔

Image caption ’ہم جانتے ہیں کہ جب ہم مریضوں کو اینٹی ڈپریسنٹ فراہم کرتے ہیں تو ان کے مزاج میں بہتری میں 3 سے 4 ہفتے لگ جاتے ہیں۔‘

ڈاکٹر فوٹس پاپاڈوپولس کا کہنا تھا ’ہم جانتے ہیں کہ جب ہم مریضوں کو اینٹی ڈپریسنٹ فراہم کرتے ہیں تو ان کے مزاج میں بہتری میں 3 سے 4 ہفتے لگ جاتے ہیں۔ اس دوران کچھ لوگ انتہائی بے چینی کا شکار رہتے ہیں جو کہ ان کے خیالات کو متاثر کر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے سورج کی کرنیں بھی کچھ لوگوں پر وہی اثر کرتی ہوں جو یہ ادویات کرتی ہیں۔‘

ڈاکٹر فوٹس پاپاڈوپولس نے 1200 خودکشیوں اور موسمی حالات کا جائزہ لیا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق خودکشیوں کی تعداد اور مریض کے دھوپ میں گزارے گھنٹوں کی تعداد میں مماثلت ہے۔ مگر یہ مماثلت اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب آپ یہ دیکھیں کہ دھوپ میں گزارے گئے گھنٹے کونسے موسم میں گزارے گئے۔ ڈاکٹر فوٹس پاپاڈوپولس کہتے ہیں کہ آپ اسے سیروٹونن سے منسلک تھیوری کہہ سکتے ہیں۔‘

اس حوالے سے اور بھی تھیوریاں موجود ہیں جیسے کہ بہار میں پولن کے اضافے کی وجہ سے دماغی کیمسٹری میں تبدیلیاں۔

میری لینڈ سکول آف میڈیسن کے ٹیوڈور پوسٹلاش نفسیات کے پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک غیر یقینی بات لگتی ہے کہ درختوں کی پھلنے پھولنے کی کوششیں، انسانوں کی خودکشیوں کی وجہ بن سکتی ہیں۔ مگر ہمیں پولن میں اضافے اور خواتین میں بغیر کسی تششد کے کی جانے والی خودکشیوں کی تعداد میں مماثلت ملی ہے۔‘

ان کا مزید کہتا تھا کہ جن ادویات سے پولن کا علاج کیا جاتا ہے کچھ لوگوں میں یہ خودکشیوں کے خیالات کو پروان دے سکتی ہیں۔

دھوپ اور خودکشی میں کیا رشتہ ہے، یہ ابھی انسانی سمجھ میں بالکل نہیں آیا مگر یہ واضح کرنا انتہائی اہم ہے کہ جو بھی تعلق ہو، وہ انتہائی کم لوگوں پر اثر کرتا ہے اور اس میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں