کیا مشینیں انسانوں کی جگہ لے لیں گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روبوٹ کپڑے دھو کر انہیں طے بھی کر سکتا ہے

سائنس بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ دنیا میں چوتھا صنعتی انقلاب اب آنے ہی والا ہے بہت جلد ہی ایسی ذہین مشینیں تیار کر لی جائیں گی جو انسان کا ہر کام کریں گی بلکہ ایسی بہت سی مشینوں نے تو انسان کی جگہ لے ہی لی ہے۔

اس سے بہت سے کام آسانی سے اور فوری ہو جائیں گے اور کمپنیوں کا خرچ کم ہوگا لیکن اس صنعتی انقلاب کا ایک بڑا نقصان ہوگا اس سے بڑے پیمانے پر لوگ بے روزگار ہو جائیں گےاور لوگوں کے لیے نئے روزگار کے مواقع بھی کم ہو جایئں گے۔

ایسے وقت میں جب دنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، روزگار کم ہونے کے اندیشے سے پوری دنیا فکر مند ہے۔ آپ کی جگہ کب کوئی مشین لے لے گی؟ اس سوال کا کوئی ٹھوس جواب فی الحال تو نہیں لیکن کئی محققین اس کا جواب تلاش کر رہے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے فیوچر آف ہیومینٹی انسٹی ٹیوٹ کی كٹجا گریسی اور ان کے ساتھیوں نے اس موضوع پر کافی کام کیا ہے. انہوں نے دنیا بھر کے 352 سائنس دانوں سے بات کرکے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

مشین کے حوالے ہر کام

ان سائنسدانوں سے بات چیت کی بنیاد پر گریسی اور ان کی ٹیم نے ایک گراف تیار کیا ہے۔جس میں اس بات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ آپ کے کام کو کب مشین کے حوالے کیا جائے گا۔

اس گراف میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسا کب تک ہونے کا امکان ہے، اور اس میں زیادہ سے زیادہ کتنا وقت لگے گا مثال کے طور پر ہوسکتا ہے کہ ٹرک ڈرائیوروں کا کام مشینیں اگلے دس سالوں میں کرنے لگیں۔

اسی طرح پرچون یا دكانداري کا کام اگلے دس سالوں میں مشین کے ذریعے ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ یعنی پرچون کی نوکری اگلے دس سالوں میں جا سکتی ہے۔

Image caption مشینیں اتنی تیزی سے بہتر نہیں ہو رہیں جتنا سائنسدان دعوے کر رہے تھے

ریسرچ کے مطابق اس بات کا بچاس فیصد امید ہے کہ اگلے سوا سو سال میں انسان کا ہر کام مشینیں کریں گی۔

کٹجا گریسی کا کہنا ہے کہ اس ریسرچ میں سب سے حیرت انگیز بات یہ سامنے آئی کہ مشینیں اتنی تیزی سے بہتر نہیں ہو رہیں جتنا سائنسدان دعوے کر رہے تھے۔ مشینوں کا دور آنے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔

سرجری کا کام اگلے 25 سے 50 سال کے درمیان مشینوں کے حوالے کیا جا سکتا ہے. تو ریاضی کے ریسرچ کا کام بھی 50 سال کے اندر ہی مشینوں کے حوالے ہو سکتا ہے۔

مصنوعی انٹیلیجنس

آرٹیفیشل رسرچ یعنی مصنوعی طرح سے ریسرچ کا کام مکمل طور پر مشینوں کے حوالے کرنے میں 75 سے 100 سال لگ سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اگلے 125 سالوں میں ہو سکتا ہے کہ مشینیں ہر وہ کام کرنے لگیں، جو آج انسان کرتے ہیں۔

ریسرچ کے نتائج

آخر اس ریسرچ کے نتائج کیا کہتے ہیں؟ اس سروے کے مطابق، 2021 تک ایسی مشینیں تیار ہو جائیں گی جو کپڑے دھو کر سكھا كر پھر اسے تہہ کرکے رکھیں گی۔ یعنی اگرآپ لانڈری میں کام کرتے ہیں، تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ کی کانوکری خطرے میں ہے۔

شاید نہیں، ایسی مشینیں اب بھی موجود ہیں جو کپڑے تہہ کرتی ہیں۔ امریکہ کی کیلی فورنیا یونیورسٹی نے ایسا روبوٹ بنایا ہے جو تولیے، جینز اور قمیضیں تہہ کر کے رکھتا ہے2010 میں روبوٹ کو ایک تولیہ تہہ کرکے رکھنے میں 19 منٹ لگ رہے تھے۔

مگر 2012 تک روبوٹ کو ایک جوڑی جینز تہہ کرنے میں صرف پانچ منٹ لگ رہے تھے ایک ٹی شرٹ کو تلاش کرکے تہہ کرنے کا کام روبوٹ 6 منٹ میں کر رہا تھا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
یہ جرمن روبوٹ پادری آٹھ مختلف زبانوں میں دعا دیتا ہے

سائنس کی اتنی ترقی کے باوجود ایسے روبوٹ مکمل طور پر انسانوں کی جگہ لینے میں ابھی اور وقت لیں گے۔ برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کے جیریمی وائٹ کہتے ہیں کہ مشینوں کے حوالے سے ایسے اندازوں پر بہت زیادہ یقین نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ہوم ڈیلیوری کرنے والی مشینیں

جیریمی کے مطابق، لیب میں ایسا کرنا اور اصل زندگی میں انہیں استعمال میں لانا دونوں الگ باتیں ہیں۔

لیکن اگلے بیس سالوں میں ٹرک ڈرائیوروں اور پرچون کا کام کرنے والوں کو اپنی ملازمت کے بارے میں سوچنا ہوگا محققین کا خیال ہے کہ 2027 تک ٹرک ڈرائیونگ کا کام مشینیں کرنے لگیں گی۔

دکان پر سامان فروخت کرنے کا کام 2031 تک مشینوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔ لیکن، دکانوں میں آپ کو کپڑے دکھا کر انہیں پسند کروانے والوں کی نوکری ابھی سلامت رہے گی۔

اب لوگ بڑے پیمانے پر آن لائن خریداری کر رہے ہیں۔ ایسے میں آن لائن کمپنیوں کے لیے کام کرنے والے روبوٹ گودام کا کام آسانی سے کر لیں گے۔آن لائن کمپنیاں اپنے کاروبار میں بڑے پیمانے پر مصنوعی انٹیلیجنس کا استعمال کر رہی ہیں۔

مشینوں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ مشینوں کے لیے سب سے مشکل کام وہ ہوں گے، جو انسان برسوں کی ٹریننگ اور تجربے سے سیکھتا ہے مثلا فیصلے لینے کا کام، سوچ کر کوئی کام کرنے والی ذمہ داری اور فی الحال کمپیوٹر یہ کام نہیں کر پا رہے۔

Image caption مشینں انسان کا ہر کام نہیں کر سکتیں

سائنسدانوں کے خیال میں سرجری کا کام کرنے والے روبوٹ 2053 سے پہلے شاید ہی بنائے جا سکیں اور ریاضی کے ریسرچ کرنے والی مشینیں بنانے میں کم از کم 43 سال لگیں گے.اور بیسٹ سیلِنگ ناول لکھنے والی مشینیں شاید 2049 تک تیار ہو پائیں۔

ویسے بہت سی مشینیں لکھنے کا کام اب بھی کرنے لگی ہیں گوگل نے اپنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس والی مشین کو رومانوی ناول اور خبروں پر مضامین لکھنے کی ٹریننگ دینی شروع کر دی ہے۔ بنیامین نام کا ایک روبوٹ چھوٹی سائنس فکشن فلموں کی سکرپٹ لکھ لیتا ہے۔

اگرچہ یہ انتہائی بے ترتیب ہوتی ہے۔ وہیں آٹومیٹڈ انسائٹس نام کا کمپیوٹر، لوگوں کی ضرورت کے مطابق خبریں، معاشیات اور کھیل سے متعلق مضامین رائٹرز اور اے پی جیسی ایجنسیوں کے حساب سے چھانٹنے کا کام کرتا ہے۔

آٹومیٹڈ انسائٹس کے سی ای او ایڈم سمتھ کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کا مقصد انسانوں کی مدد کرنا ہے وہ انسانوں کی جگہ مکمل طور پر نہیں لے سکتی مشینوں کے ذریعے صحافت پہلے نہیں تھی لیکن اب بھی جو مضامین روبوٹ تیار کرتے ہیں، اس میں انسانی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

اب، مشینیں جو خبریں تیار کرتی ہیں، وہ ایک فارمولے کے تحت کام کرتی ہیں اس میں اعداد و شمار کے ڈھیر سے معلومات نکالی جاتی ہیں پھر اسے خانوں میں بھرنے کا کام مشینیں کرتی ہیں۔ بیسٹ سیلِنگ فکشن لکھنے والی مشینیں بنانے میں شاید مزید 30 سال لگیں۔