جدید دور کی غلامی، سزا عمر قید

Image caption جنسی استحصال کے لیے عورتوں کی سمگلنگ بھی غلامی کی ایک شکل ہے

برطانوی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ انسدادِ غلامی کے مجوزہ قانون کا مسودہ جلد ہی مشتہر کر دیا جائے گا۔ اس قانون میں انسانی سمگلنگ کے جرائم میں سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

جدید دور میں غلامی کے مجوزہ قانون کا مقصد دوسروں کو غلامی پر مجبور کرنے والے مجرموں کی سزا کو 14 سال سے بڑھا کر عمر قید میں تبدیل کیا جانا ہے۔

اس مجوزہ قانون میں انسدادِ غلامی کے کمشنر کا عہدہ قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے جس کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اور دیگر متعلقہ اداروں پر نظر رکھنا اور انھیں جواب دہ بنانا ہو گی۔

حال ہی میں بننے والے ایک قانون میں غلامی کی مختلف شکلوں کی تشریح بھی کی گئی تھی اور اس کے تحت جدید دور میں غلامی کی مختلف صورتوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے سالانہ دن منانے کا تعین کیا گیا تھا۔

اس قانون کے تحت جدید غلامی کی تشریح میں درجہ ذیل جرائم کو شامل کیا گیا ہے:

  • جنسی استحصال کے لیے انسانوں کی سمگلنگ
  • بچوں کی سمگلنگ
  • جبری مشقت کے لیے انسانوں کی سمگلنگ
  • گھریلوں ملازمتوں کے لیے انسانوں کی سمگلنگ

ابتدائی طور پر انسدادِ غلامی کا قانون بنانے کا ارادہ وزیر داخلہ ٹیریسا مے نے پیش کیا تھا۔

برطانوی اخبار ’دی ٹائمز‘ میں اپنے ایک مضمون میں وزیر داخلہ نے اس وقت لکھا تھا کہ برطانیہ میں غلامی کی موجودگی کے بارے میں یقین نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن تلخ حقیقت یہی ہے کہ برطانیہ میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں انتہائی بدترین حالات میں زندہ رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں