حلب کے محصور علاقوں میں زندگی جہنم ہے: اقوام متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا ہے کہ حلب کے باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں بسنے والے عام شہری زندگی میں ہی 'جہنم' کی صعوبتوں سے دوچار ہیں۔

سٹیفن اوبرائن نے متحارب فریقین سے کہا کہ وہ سینکڑوں ایسے لوگوں کے انخلا کی اجازت دیں جن کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں اگلے مورچوں پر روسی جنگی جہازوں نے گزشتہ رات درجنوں حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ شامی فوجوں کو شہر کے شمالی علاقوں میں مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔

اس کے گھنٹوں بعد شامی فوج نے باغی جنگجوؤں کو پیشکش کی کہ اگر وہ مشرقی حلب کو خالی کر دیں تو انہیں محفوظ راستہ دیا جا سکتا ہے۔

اتوار کے روز شام کی سرکاری نیوز ایجنسی سنا سے جاری ہونے والے ایک بیان میں باغی جنگجوؤں کو یہ پیشکش کی گئی تھی اور انہیں کہا گیا تھا کہ روسی اور شامی فوجی قیادت ان کے لیے محفوظ راستے کی گارنٹی فراہم کرے گی اور اگر ضروری ہوا تو انہیں امداد بھی دے گی۔

حکومت کئی ماہ سے شہر کے مشرقی علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی جو طویل عرصے سے اپوزیشن کا گڑھ چلا آ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے اعلیٰ افسر سٹیفن اوبرائن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں شہر کے مشرقی علاقے پر ہونے والے مسلسل حملوں پر شدید تشویش ہے۔

انھوں نے کہا کہ شہر کے مشرقی علاقے میں طبی سہولتیں تقریباً تباہ ہو چکی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سنیچر کو ہونے والی بمباری میں حلب کے مرکزی ٹروما ہسپتال کو تیسری بار نشانہ بنایا گیا۔

ہسپتال کے ریڈیالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے ایک ملازم نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ہسپتال اب مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔

حلب کسی زمانے میں شام کا تجارتی اور صنعتی مرکز ہوا کرتا تھا لیکن 2012 سے یہ تقریباً دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق شام میں جاری تشدد میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ برطانیہ میں قائم ایک ادارے کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد چار لاکھ تیس ہزار ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اڑتالیس لاکھ افراد ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں جبکہ 65 لاکھ ملک کے اندر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں