شامی شہر حلب میں ہسپتال پر ایک بار پھر’ فضائی بمباری‘

تصویر کے کاپی رائٹ AMC
Image caption ادہم سہلول کا کہنا ہے کہ ہسپتال اب استعمال کے قابل نہیں رہا ہے، اسے بچایا نہیں جا سکتا ہے

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام کے شہر حلب میں باغیوں کے زیر کنٹرل مشرقی علاقے میں واقع ٹراما ہسپتال کو ایک ہفتے کے دوران تیسری مرتبہ فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

فی الحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ ہسپتال پر ہونے والے اس تازہ فضائی حملے میں کتنا نقصان ہوا ہے لیکن فضائی کارروائی کے بعد جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ایم 10 ہسپتال کی دیواروں کو پہنچنے والا نقصان دیکھا جا سکتا ہے۔

طبی امداد پہنچانے والے ایک ادارے کا کہنا ہے کہ اس فضائی کارروائی کے نتیجے میں ہلااک ہونے والوں میں تین کارکن بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ حکومتی فورسز کی جانب سے حلب شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے دو ہفتے قبل شروع کی جانے والی کارروائیوں میں اب تک سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا تھا کہ حلب کے باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں بسنے والے عام شہری زندگی میں ہی 'جہنم' کی صعوبتوں سے دوچار ہیں۔

سٹیفن اوبرائن نے متحارب فریقین سے کہا کہ وہ سینکڑوں ایسے لوگوں کے انخلا کی اجازت دیں جن کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں اگلے مورچوں پر روسی جنگی جہازوں نے گزشتہ رات درجنوں حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ شامی فوجوں کو شہر کے شمالی علاقوں میں مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سیریئن امریکن میڈیکل سوسائٹی کے ادہم سہلول کے مطابق بنکر کو تباہ کرنے والے بم کے باعث ہسپتال کے داخلی دروازے کے سامنے دس میٹر گہرا گڑھا بن گیا ہے جس کے باعث عمارت کے مکمل طور پر زمین بوس ہونے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ادہم سہلول کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ہسپتال اب استعمال کے قابل نہیں رہا ہے، اسے بچایا نہیں جا سکتا ہے۔‘

سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اس کارروائی میں چھ کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق شام میں جاری تشدد میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ برطانیہ میں قائم ایک ادارے کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد چار لاکھ تیس ہزار ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 48 لاکھ افراد ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں جبکہ 65 لاکھ ملک کے اندر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں