شام: کردوں کی شادی کی تقریب پر خودکش حملے میں 30 ہلاک

دولت اسلامیہ کرد حملہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک شخص کالی جیکٹ پہنے تقریب میں آیا اور چند لمحوں میں زور دار دھماکہ ہوا: عینی شاہد

شام کے شمالی صوبے حساکہ کے شہر تال طویل میں پیر کی شب شادی کی ایک تقریب میں ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے ہیں۔

شام اور عراق کی شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

دولت اسلامیہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ایک حملہ آور نے کرد فوجیوں کے ایک بڑے اجتماع پر حملہ کیا۔

دولت اسلامیہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے حملہ آور جس نے خود کش جیکٹ پہن رکھی تھی مشین گن سے مسلح بھی تھا۔

کرد جنگجوؤں نے اس شدت پسند تنظیم کو حساکہ صوبے سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

شادی کی تقریب میں موجود ایک شخص نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جب دولہا دلہن عہد و پیمان کر رہے تھے تو ایک شخص کالی جیکٹ پہنے ہوئے ان کے پاس سے گزرا۔

'مجھے اس کا حلیہ عجیب لگا لیکن اگلے چند لمحوں میں ایک زوردار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد ہر طرف لاشوں کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے۔

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے ثنا نے کہا ہے کہ خودکش حملے میں 30 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے ہیں۔

البتہ برطانیہ میں قائم سریئن آوبزرویٹری نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 31 بتائی ہے۔ سیرئین آوبزویٹری کے مطابق دولہا زردشت مصطفیٰ فاطمی اس حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں ۔

البتہ دولہا کے ایک رشتہ دار نے دولہا کے ہلاک ہونے کی خبروں کی تردید کی۔ انھوں نے کہا دولہا کے والد اور بھائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں لیکن دولہا زندہ ہے اور اسے معمولی زخم آئے ہیں۔

اسی بارے میں