ہیٹی میں شدید سمندری طوفان، ساحلی علاقے زیر آب آگئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ دیگر ساحلی آبادیاں بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں

ہیٹی میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران سب سے شدید طوفان آیا ہے جس کے نتیجے میں وہاں 145 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہواؤں، تیز بارشوں اور خطرناک آندھیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

کیٹگری فور کے اس طوفان کو میتھیو نام دیا گیا ہے اور اس وقت یہ طوفان مشرقی کیوبا کی جانب بڑھ رہا ہے۔

امریکی نیشنل ہریکین سینٹر کا کہنا ہے کہ ’ہیٹی میں وہ سب کچھ ہے جو یہ طوفان ساتھ لایا ہے۔‘

جنوبی ساحل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کئی عمارتیں پانی میں بہہ گئی ہیں اور بعض کی چھتیں اکھڑ گئی ہیں۔

ہیٹی کے سول پروٹیکشن ایجنسی کے ڈائریکٹر میری ایلٹا شان نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کتنا نقصان ہوا ہے، لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ جنوبی علاقے میں بہت سے مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔‘

ہیٹی کے عبوری صدر جوسیلرم پیورٹ نے اس سے قبل بتایا تھا کہ ’بعض لوگ جو کہ سمندر کے قریب تھے یا وہ جنھوں نے الرٹ کی پروا نہیں کی ہلاک ہو چکے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ ایک دہائی کے دوران ہیٹی میں آنے والا یہ شدید ترین طوفان ہے

دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہونے والے اس ملک کے ایک کروڑ دس لاکھ رہائیشی ایسی جگہوں پر رہتے ہیں جہاں ان کا سیلاب سے سامنا ہوتا ہے اور ان کے گھر بھی زیادہ مضبوط نہیں ہیں۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ میتھیو جو کہ 15 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمالی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس کے نتیجے میں 40 انچ بارشیں بھی ہو سکتی ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شائع ہونے والی ویڈیوز میں گھروں کی ٹوٹی ہوئی چھتیں اور کھجور کے جھکے ہوئے درختوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک امریکی صحافی جیکلین چارلز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لیز کیز سے ملنی والی اطلاعات کے مطابق وہاں پانی رہائیشیوں کے کندھوں تک بڑھ چکا ہے جبکہ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ دیگر ساحلی آبادیاں بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔