’دہشتگردی کی کفیل ریاست‘: وائٹ ہاؤس نے پاکستان کے خلاف پٹیشن بند کر دی

  • 5 اکتوبر 2016
تصویر کے کاپی رائٹ WHITEHOUSE.GOV
Image caption پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امریکی حکومت ایک دہشتگرد یا دہشتگردی کی کفیل ریاست قرار دے

پاکستان کو امریکی حکومت کی جانب سے ایک دہشتگرد یا دہشتگردی کی کفیل ریاست قرار دینے کے لیے شروع کی جانے والی ایک آن لائن پٹیشن کو وائٹ ہاؤس نے بند کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ کے دو قانون سازوں نے کانگریس میں ایک بل بھی پیش کیا تھا جس میں پاکستان کو 'دہشت گردی کی کفیل ریاست' قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ بل ٹیکسس سے تعلق رکھنے والے ممبر کانگریس ٹیڈ پو اور کیلیفورنیا سے منتخب ہونے والے ممبر ڈینا روہرابیچر نے پیش کیا تھا۔

’وی دا پیپل‘ نامی ویب سائٹ کے ذریعے لوگ امریکی وائٹ ہاؤس کو کسی بھی موضوع پر پٹیشن بھیج سکتے ہیں۔ اگر کسی پٹیشن کی ایک ماہ کے اندر ایک لاکھ لوگ حمایت کر دیں تو وائٹ ہاؤس پر 60 روز میں اس کا جواب دینا لازم ہو جاتا ہے۔

پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے کی اس پٹیشن کی چند ہی روز میں ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ افراد نے حمایت کی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے اس پٹیشن کو ممکنہ فراڈ یعنی جعلی حامیوں کی بنا پر بند کیا گیا ہو۔

’وی دا پیپل‘ نامی ویب سائٹ پر کوئی بھی پٹیشن شروع کرنے یا کسی موجودہ پٹیشن کی حمایت کرنے کے لیے صرف نام اور ای میل ایڈریس کی ضرورت ہوتی ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس پٹیشن کی حمایتیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے جعلی ناموں کا استعمال کیا گیا ہو۔

مذکورہ پٹیشن کو اس بنا پر بھی بند کیا گیا ہو سکتا ہے کہ اس کے حامیوں کی بڑی تعداد امریکہ سے باہر ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ اس ویب سائٹ پر پٹیشن شروع کرنے یا کسی پٹیشن کی حمایت کرنے کے لیے امریکی شہری ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں 26 ستمبر کو کہا تھا کہ کسی بھی ملک کو دہشت گرد ملک قرار دینا ایک قانونی عمل ہے جس کے مختلف تقاضے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی توجہ پاکستانی کی انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف کوششیں کر رہا ہے اور اس حوالے سے وہ پیش رفت بھی کر رہے ہیں۔ ترجمان نے اس بات کو دہرایا کہ پاکستان کو تمام شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

خیال رہے کہ 27 ستمبر کو اسی ویب سائٹ پر ایک اور پٹیشن بھی جاری کی گئی ہے جس میں وائٹ ہاؤس سے کہا گیا ہے کہ انڈیا کو کشمیر میں جارحیت کے پیشِ نظر دہشتگرد ملک قرار دیا جائے۔ اس پٹیشن کی حمایت میں ابھی تک 85 ہزار سے زیادہ حامیوں کا اندراج ہوا ہے اور اس پٹیشن کے حامی اب بھی ویب سائٹ پر جا کر اپنی حمایت کا اظہار کر سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں