انڈیا اور پاکستان کے خلاف مقدمہ قابل سماعت نہیں، برطانیہ پر فیصلہ کچھ دیر میں

ایٹمی تجربہ تصویر کے کاپی رائٹ AP

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی عدالت آئی سی جے نے کہا ہے کہ بحرالکاہل میں واقع ایک چھوٹے سے ملک مارشل آئی لینڈز کی جانب سے انڈیا اور پاکستان کے خلاف دائر شدہ مقدمہ قابل سماعت نہیں ہے۔

آئی سی جے مارشل آئی لینڈز کی جانب سے برطانیہ کے خلاف دائر شدہ مقدمے کا فیصلہ کچھ دیر میں سنائے گی۔

یاد رہے کہ انڈیا، پاکستان اور برطانیہ کے خلاف مارشل آئی لینڈز کی جانب سے دائر شدہ مقدمے میں کہا گیا تھا کہ انڈیا، پاکستان اور برطانیہ جوہری اسلحے کی دوڑ روکنے میں ناکام رہے ہیں اس لیے ان پر دا ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چلایا جائے۔

دا ہیگ میں ججوں کا ایک 16 رکنی بنچ نے انڈیا اور پاکستان کے خلاف درخواست پر اپنا فیصلہ سنایا۔

بحرالکاہل میں جزائر کے مجموعوں پر مبنی مارشل آئی لینڈ کی شکایت ہے کہ جوہری اسلحے کی دوڑ کے سبب اس کے جزائر غائب ہو رہے ہیں اور یہ ہزاروں سال کے لیے ناقابل رہائش ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 1946 سے 1958 کے درمیان امریکہ نے سرد جنگ سے قبل ان جزائر پر بہت سے جوہری تجربات کیے تھے اور پھر دنیا میں جوہری اسلحے کی دوڑ شروع ہو گئی تھی۔

55 ہزار آبادی والے ملک کا کہنا ہے کہ وہ اس قسم کے اسلحے کے مہلک اثرات سے بین الاقوامی عدالت کے حکام کو آگاہ کریں گے۔

دراصل مارشل آئی لینڈز کے دارالحکومت مجورو نے سنہ 2014 میں نو ممالک پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ ممالک سنہ 1968 میں ہونے والے جوہری عدم توسیع کے معاہدے کی پابندی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

دراصل آئی سی جی دو ممالک کے درمیان تنازعات پر فیصلے دیتی ہے اور کیا وہ تین ممالک برطانیہ، انڈیا اور پاکستان کے خلاف شکایت کو سننے کا مجاز ہے یا نہیں۔

چین، فرانس، شمالی کوریا، روس اور امریکہ نے کبھی خود کو عدالت کا پابند نہیں بنایا جبکہ اسرائیل نے کبھی جوہری اسلحہ رکھنے کا دعوی نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption مارشل آئی لینڈ کی تصویر

ہر چند کہ انڈیا اور پاکستان نے عدم توسیع کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں تاہم شکایت میں کہا گيا ہے کہ برطانیہ، انڈیا اور پاکستان اس کی مسلسل خلاف ورزی کرتے رہے ہیں۔

مجورو نے جوہری صلاحیت کے حامل ان تینوں ممالک سے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے'تمام ضروری اقدامات کرے۔'

مارشل آئی لینڈ کے ایک سابق وزیر خارجہ ٹونی ڈیبرم نے عدالت کو بتایا: 'ہمارے ممالک کے بہت سے جزائر تباہ ہو گئے ہیں اور دورے کئی ہزاروں سال تک قابل رہائش نہیں رہیں گے۔'

اپریل سنہ 1954 میں ہونے والے نام نہاد آپریشن کیسل تجربات بطور خاص بہت تباہ کن تھے اور اس سے بہت بڑے پیمانے پر زہریلے مادے پھیلے تھے۔

نو برس کی عمر میں اس تجربے کا مشاہدہ کرنے والے ڈیبرم نے بتایا: 'سارا آسمان خون کی طرح سرخ ہو گیا تھا۔'

ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے جوہری اسلحے کے ذخائر میں کمی کے متعلق دو دہائیوں سے تعطل کا شکار بات چیت کو مہمیز لگے گی۔

لیڈن یونیورسٹی کے پروفیسر جینس آئیورزن کا کہنا ہے کہ اس سے 'وہ یہ امید کر رہے ہیں کہ اس دنیا نسبتا محفوظ ہو جائے گی۔'

یہ معاملہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے علاقے میں کشیدگی میں حالیہ اضافے کے دوران آیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں