میانمار میں 66 سال پرانا آمرانہ قانون منسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس قانون میں جھوٹی خبر پھیلانے یا سماجی اخلاقیات کے منافی اقدام جیسے جرائم کی سزا سات سال قید تھی

میانمار میں حکام نے ماضی میں آمروں کی جانب سے مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک انتہائی سخت قانون منسوخ کر دیا ہے۔

ایمرجنسی پرویژنز ایکٹ 1950 میں برطانیہ سے میانمار کی آزادی کے بعد لاگو کیا گیا تھا۔

اس قانون کے تحت حکام شہریوں کو بغیر کسی الزام یا فردِ جرم عائد کیے زیرِ حراست رکھ سکتے تھے۔ اسی قانون کے ذریعے کئی جرائم کو غداری قرار دے کر ملزم کو پھانسی بھی دی جا سکتی تھی۔

اس قانون میں جھوٹی خبر پھیلانے یا سماجی اخلاقیات کے منافی اقدام جیسے جرائم کی سزا سات سال قید تھی۔

رواں سال کے آغاز میں کئی دہائیوں کی فوجی حکومت کے خاتمے کے بعد برسرِاقتدار آنے والی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی بہت عرصے سے اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پارلیمان میں کمیٹی برائے قانون سازی کے چیئرمین ٹن ٹن یحئین کا کہنا ہے کہ سوشلسٹ آمر اس قانون کو استعمال کرتے ہوئے ہر اس شخص کو گرفتار کرتے تھے جو ان کے خلاف ہوتا تھا۔

خبر رساں ادار ےروئٹرز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کیونکہ اب عوامی حکومت ہے اس لیے ہم نے یہ قانون مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

تاہم حکومت کے اس اقدام کی کچھ فوجی حلقوں کی جانب سے مخالفت کی گئی جن کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کے لیے یہ قانون اہم ہے۔

میانمار میں اس وقت بھی پارلیمان میں 25 فیصد سیٹیں فوج کے پاس ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں