بیلجیئم میں پولیس اہلکاروں کو چاقو مار کر زخمی کر دیا گیا

برسلز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بیلجیئم میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ دارالحکومت برسلز میں ایک ممکنہ دہشت گرد حملے میں دو پولیس اہلکاروں کو چاقو مار کر زخمی کر دیا گیا ہے۔

بیلجیئن نشریاتی ادارے وی آر ٹی کے مطابق ایک پولیس اہلکار کو گردن اور دوسرے کو پیٹ میں چاقو مارے گئے، جب کہ ایک تیسرے پولیس والے کی ناک توڑ دی گئی تھی۔

حملہ آور کی ٹانگ میں گولی مار کر اسے گرفتار کر لیا گیا۔

حکام نے کہا ہے کہ 43 سالہ حملہ آور کا نام ہشام ڈی ہے اور وہ بیلجیئم کا شہری ہے۔

بیلجیئن میڈیا کے مطابق پولیس کا پاس ہشام کا ریکارڈ موجود تھا اور خیال ہے کہ اس کا تعلق ایسے جہادیوں سے تھا جو لڑنے کے لیے شام گئے ہوئے ہیں۔

ہشام 2009 تک پولیس میں ملازم رہے ہیں۔

وفاقی استغاثہ کے ترجمان ایرک فان ڈر سیپٹ نے کہا: 'ہمارے پاس یہ یقین کرنے کی وجہ موجود ہے کہ یہ دہشت گرد حملہ تھا۔'

حکام کے مطابق پولیس اہلکاروں کے زخم جان لیوا نہیں ہیں۔

اس حملے سے چند گھنٹے قبل برسلز کے نورڈ سٹیشن کو بم کی افواہ کی وجہ خالی کروا لیا گیا تھا۔

بیلجیئم مارچ میں برسلز میں ہونے والے حملوں کے بعد سے ہائی الرٹ پر ہے۔ ان دہشت گرد حملوں میں 35 افراد 300 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

حملہ آوروں نے دعویٰ کی تھا کہ ان کا تعلق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں