’متنازع جزیرہ نما کرائمیا روس کی جانب کھسک رہا ہے`

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption جزیرے کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے جن سانئسی آلات کی مدد لی گئی وہ کرائمیا کے ایک گاؤں شمیز میں نصب کیے گئے تھے۔

روسی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سیاسی طور پر متنازع جزیرہ نما کرائمیا طبعی طور پر روس کی جانب کھسک رہا ہے اور 15 لاکھ برس میں یہ روسی سرزمین سے جُڑ جائے گا۔

انٹرفیکس نیوز ایجنسی کی اطلاعات کے مطابق روس کے اکیڈمی آف سائنس میں شعبہ فلکیات کے سربراہ الیگزینڈر اپتوف کا کہنا ہے کہ جزیرہ نما کرائمیا 9۔2 ملی میٹر کی رفتار سے روس کی طرف شمال مشرق کی جانب بڑھ رہا ہے۔

یہ جزیرہ یوکرین کا حصہ تھا اور روسی حکام نے سنہ 2014 میں اس کے روسں سے الحاق کا اعلان کیا تھا۔

الیگزینڈر نے کہا: 'جب کرائمیا روس میں شامل ہوا تھا تب ہم نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی کہ بالآخر کرائمیا کس جانب بڑھ رہا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ ممکن ہے اس وقت یہ جواب ایک مذاق لگا ہو لیکن یہ سنجیدہ سائنسی تحقیق کا نتیجہ ہے۔

انٹرفیکس کے مطابق اس جزیرے کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے جن سانئسی آلات کی مدد لی گئی وہ کرائمیا کے ایک گاؤں شمیز میں نصب کیے گئے تھے۔

کرائمیا میں روس کے حمایت یافتہ رہنما سرگے ایکسنوف کو یہ نظریہ یا خیال کافی پسند آيا ہے۔ انھوں نے لائف ڈاٹ آر یو سے بات کرتے ہوئے کہا: 'ارضیاتی نکتہ نظر سے ہمارا جزیرہ کئی ہزار سالوں سے روس کی سرزمین کی جانب بڑھتا رہا ہے۔'

Image caption روس کریچ پل کی تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے تاکہ وہ کرائمیا کو روس کی سرزمین سے جوڑ سکے

کرائمیا کے روس کے ساتھ جانے کے فیصلے کو چند روسی اتحادیوں نے ہی تسلیم کیا ہے جبکہ عالمی برادری نے اس الحاق کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا ہے۔

اس نئی دریافت کے بعد سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے بہت سے روسی لوگ اس بات کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ اب اگر جزیرہ روس کی جانب تیزی سے بڑھ ہی رہا ہے تو پھر 19 کلومیٹر طویل اس پل کو بنانے کی کیا ضرورت ہے جو روس کو کرائمیا سے جوڑتا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کے نام سے ایک فرضی اکاؤنٹ نے لکھا: 'کرائمیا کے پل کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی۔ 30 کروڑ برسوں کے مختصر سے وقت میں کرائمیا روس سے خود ہی مل جائے گا۔'

ایک اور شخص نے ٹوئٹر پر لکھا: ' اسے اب خود ہی ساحل پر پہنچنے دیجیے، ایک پھیلتا ہوا طویل کھیل ہے اور اس سے تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر کی وہ رقم جو روس پل بنانے پر خرچ کرے گی، بچ جائے گی۔'

حکومت کے ایک حامی اخبار کے مطابق 2007 میں بھی علم ارضیات کے ماہر بورس لیوین نے کہا تھا کہ کرل کے جزیرے بھی روس کے شخالین جزیروں کی جانب ہر برس 18 ملی میٹر کی رفتار سے بڑھ رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں