دوسرا مباحثہ: ٹرمپ کی ہلیری، بل کلنٹن پر زبردست تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے ان باتوں کو 'خالی خولی الفاظ' اور 'لاکر روم میں ہونے والی گفتگو' قرار دیا۔

ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف خواتین سے دست درازی کرنے کے الزام پر اپنی مخالف امیدوار ہلیری کلنٹن اور ان کے خاوند، سابق صدر بِل کلنٹن کے خلاف زبردست جوابی حملہ کیا ہے۔

انھوں نے خواتین پر جنسی حملے کرنے الزام کی تردید کی اور ساتھ ہی سابق صدر بِل کلنٹن کے خلاف تند و تیز الزامات کی بارش کر دی۔

٭ ٹرمپ بے وقوف ہیں اور ہلیری لاچار

انھوں نے کہا کہ ’سیاست کی تاریخ میں کبھی بھی کوئی ایسا شخص نہیں گزرا جو خواتین کے خلاف اتنی گندی زبان استعمال کرتا ہو۔‘

ہلیری کلنٹن نے اپنے خاوند کے بارے میں ان کے الزامات کے بارے میں بات کرنے سے اجتناب کیا۔

ٹرمپ نے بِل کلنٹن کے خلاف الزامات کا سلسلہ تب شروع کیا جب مباحثے کے میزبان اینڈرسن کُوپر نے ان کی توجہ 2005 میں ریکارڈ کی گئی وڈیو کی جانب دلائی جس میں وہ خواتین سے دست درازی کے بارے میں ڈینگیں مار رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ان باتوں کو ’خالی خولی الفاظ‘ اور ’لاکر روم میں ہونے والی گفتگو‘ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جب میزبان کے اس بات پر زور دیا کہ آیا وہ کبھی ناقابل قبول جنسی فعل میں ملوث ہوئے ہیں تو مسٹر ٹرمپ نے اس بات سے انکار کیا۔ اس کے بجائے انہوں نے بحث کا رخ مسٹر کلنٹن کے خلاف ماضی میں لگنے والے الزامات کی طرف موڑ دیا۔

مسٹر کلنٹن کے خلاف کبھی بھی جنسی حملہ کرنے کے الزام میں فوجداری کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ کے خلاف سامنے آنے والا وڈیو ’حقیقی طور پر اس شخص کی نمائندگی کرتا ہے جو وہ ہیں‘۔

’میں نے گزشتہ صدارتی امیدواروں کے ساتھ عدم اتفاق کا اظہار کیا ہے لیکن میں نے کبھی بھی ان کے صدارتی عہدے کے لیے موزوں ہونے کے بارے میں سوال نہیں اٹھایا‘۔

امریکہ میں صدارتی امیدواروں ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دوسرا مباحثہ واشنگٹن یونیورسٹی میں ہوا جس میں ہلیری کلنٹن کی ای میلز، شام و عراق کے متعلق امریکی پالیسی،امریکی معیشت اور ذاتی کردار پر بات چیت کی گئی۔

مباحثے کے آغاز سے کچھ ہی دیر قبل ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر اور ٹرمپ کے مدِ مقابل ہلیری کلنٹن کے شوہر، بل کلنٹن پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگانے والی خواتین کے ساتھ مل کر ایک پریس کانفرنس کی۔

مباحثے کے دوران دونوں امیدواروں نے ایک بار پھر ایک دوسرے کو جھوٹا اور غیر حقیقت پسند کہتے ہوئے صدارت کے لیے غیر موزوں قرار دیا۔

ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ 'صرف خواتین کی توہین کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھتا ہے بلکہ ڈونلڈ کی جانب سے افریقی نژاد امریکیوں، تارکینِ وطن اور مسلمانوں سمیت دیگر طبقوں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے اٹھتا ہے۔'

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ میں رہنے والے مسلمان شدت پسندی کے بارے میں متعلقہ اداروں کو بروقت اطلاع دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ڈونلڈ ٹرمپ نے بحث کے دوران ہلیری کلنٹن کی جانب سے ای میلز کے لیے اپنے ذاتی اکاؤنٹ کے استعمال پر بھی شدید تنقید کی۔

ہلیری کلنٹن نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ذاتی ای میلز کا استعمال ایک ’غلطی‘ تھی تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں جن کے ذریعے یہ ثابت ہو کہ خفیہ معلومات غلط ہاتھوں تک پہنچ گئی تھیں۔

مسٹر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ہلیری کلنٹن کی ای میلز کی تحقیقات کے لیے خصوصی پراسیکیوٹر تعینات کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو ہلیری کلنٹن جیل میں ہوتیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 18 سال سے فیڈرل ٹیکس ادا نہیں کیا۔

جب دونوں صدارتی امیدواروں سے پوچھا گیا کہ وہ اگر صدر ہوتے تو شام کے حوالے سے ان کی پالیسی کیا ہوتی تو اس کے جواب میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ وہ شام میں امریکہ کی زمینی فوج بھجوانے کے حق میں نہیں جبکہ ٹرمپ نے صدر اوباما کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ باغیوں کی حمایت غط اقدام ہے۔

تاہم انھوں نے ملٹری پالیسی سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دینے سے انکار کیا۔

مباحثے کے اختتام پر جب ٹرمپ اور ہلیری سے جب یہ کہا گیا کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں کچھ مثبت بات کریں تو ہلیری نے ٹرمپ کے بچوں کی تعریف جبکہ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہلیری کبھی بھی ہارتی نہیں اور جدوجہد کرتیں ہیں۔

اس سے قبل چار خواتین کے ہمراہ کی جانے والی ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس کو فیس بک پر براہِ راست نشر کیا گیا۔ ان میں سے تین بل کلنٹن پر یہ الزام لگاتی ہیں کہ سابق صدر نے انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا اور ایک چوتھی خاتون وہ ہیں جن کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے شخص کا ہلیری کلنٹن نے دفاع کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ OTHER
Image caption پریس کانفرنس دونوں صدارتی امیدوار کے درمیان دوسرے مباحثہ سے چند گھنٹے قبل کی گئی ہے

ہلری کلنٹن نے اس پریس کانفرنس کو بے چارگی کا اقدام قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ اسی ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کی خواتین کے بارے میں نازیبا گفتگو کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد وہ شدید مشکلات میں ہیں اور رپبلکن پارٹی کے ایک درجن کے قریب سینیئر رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔

جمعے کو سامنے آنے والی اس ویڈیو کے بعد صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے وال سٹریٹ جنرل کو ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے صدراتی دوڑ کو چھوڑنے کا امکان صفر فیصد ہے اور انھیں ہر طرف سے بے پناہ حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ پر عورتوں کے بارے میں نازیبا گفتگو کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ ریپلکن پارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے خواتین کے بارے میں صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے نازیبا بیانات کی مذمت کی ہے۔

ان کی حمایت سے دستبرداری اختیار کرنے والوں میں رپبلکن پارٹی کے سابق صدارتی امیدوار جان مکین اور سابق امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس سمیت 33 رہنما شامل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان سنہ 2005 کا ہے جس کی ویڈیو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے حال ہی میں جاری کی ہے۔

اس ویڈیو ٹیپ میں ڈونلڈ ٹرمپ ٹی وی کے میزبان بلی بش کو یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں کہ 'اگر آپ سٹار ہیں تو' خواتین کے ساتھ 'آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔'

بعد میں معذرتی ویڈیو میں ٹرمپ نے کہا: 'میں نے ایسی باتیں کہی اور کی ہیں جن پر مجھے افسوس ہے۔ جو کوئی مجھے جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ یہ الفاظ میری شخصیت کی عکاسی نہیں کرتے۔ میں نے یہ باتیں کہی ہیں، میں غلط تھا اور میں معافی مانگتا ہوں۔'

اسی بارے میں