’دولتِ اسلامیہ کے زیرِ اثر علاقہ کم ہو رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس کے سال کے پہلے نو ماہ میں دولتِ اسلامیہ کے زیرِ اثر علاقہ 78000 مربع کلومیٹر سے کم ہو کر 65500 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے

نئی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ کے پاس تنظیم کے عروج پر جتنا علاقہ زیرِ اثر تھا، اس وقت وہ اس کا ایک چوتھائی کھو چکی ہے۔

دفاعی تجزیہ کار کمپنی آئی ایچ ایس کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے زیرِ اثر علاقے میں جنوری 2015 کے مقابلے میں 28 فیصد کمی آئی ہے۔

اس کے سال کے پہلے نو ماہ میں دولتِ اسلامیہ کے زیرِ اثر علاقہ 78000 مربع کلومیٹر سے کم ہو کر 65500 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے جو کہ تقریباً سری لنکا جتنا علاقہ ہے۔

تاہم دولتِ اسلامیہ کے علاقہ کھونے کی رفتار میں گذشتہ تین ماہ میں کمی آئی ہے۔ جولائی سے لے کر اب تک تنظیم نے صرف 2800 مربع کلومیٹر کھویا ہے۔

آئی ایچ ایس کا کہنا ہے کہ رفتار میں کمی اس وقت سے ہوئی ہے جب سے روس نے شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا کم کر دیا ہے۔

اس سال کے آغاز میں روسی حملوں کا 26 فیصد دولتِ اسلامیہ کو نشانہ بناتا تھا جو اب تقریباً 17 فیصد تک رہ گیا ہے۔

آئی ایچ ایس کے روسی امور کے ماہر ایلکس کوکچاروو کا کہنا ہے کہ گذشتہ ستمبر میں صدر پوتن کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی دہشتگردی اور خصوصی طور پر دولتِ اسلامیہ کو نشانہ بنانا روس کی ترجیح ہے تاہم ہماری تحقیق سے ایسا لگتا نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ بظاہر روس کی ترجیح بشار الاسد کی حکومت کو مضبوط کرنا ہے اور شامی خانہ جنگی کو ایک ایسی جنگ میں تبدیل کرنا ہے جہاں کئی فریقوں کے بجائے صرف دو فریق رہ جائیں، بشار الاسد اور دولتِ اسلامیہ تاکہ پھر بشار مخالف قوتوں کو عالمی حمایت دینا مشکل ہو جائے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے زیرِ اور علاقے میں کمی اہم ہے۔ دولتِ اسلامیہ کو ترک سرحد سے دس کلومیٹر دور دھکیل دیا گیا ہے جبکہ عراقی فوج نے قایاراہ فضائی اّے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جو کہ دولتِ اسلامیہ کے گھڑ موصل سے 60 کلومیٹر جنوب میں اہم مقام ہے۔

اس کے علاوہ شامی شہر منجِب بھی تنظیم کے کنٹرول میں نہیں رہا جو کہ ترکی کی سرحد تک آمد و رفت کے حوالے سے ایک اہم شہر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے ترک سرحد تک رسائی میں مشکل کی وجہ سے تنظیم کی حمایت میں آنے والے جنگجوؤں کا راستہ بند ہوا ہے۔

اسی بارے میں