'ہر سات سیکنڈ میں 15 سال سے کم عمر کی ایک بچی بیاہ دی جاتی ہے'

شادی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا، افغانستان، یمن اور صومالیہ جیسے ممالک میں دس سال تک کی عمر کی لڑکیوں کی ان کی عمر سے بہت بڑے مردوں سے شادیاں ہو رہی ہیں

بچوں کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی امدادی ادارے 'سیو دا چلڈرن' نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ہر سات سیکنڈ میں 15 سال سے کم عمر ایک بچی کی شادی ہو جاتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ انڈیا، افغانستان، یمن اور صومالیہ جیسے ممالک میں دس سال تک کی عمر کی لڑکیوں کی ان کی عمر سے بہت بڑے مردوں سے شادیاں ہو رہی ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادی سے کسی لڑکی کی پوری زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ رپورٹ منگل کو منائے جانے والے لڑکیوں کے بین اقوامی دن کے موقعے پر جاری کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ غربت و افلاس لڑکیوں کی کم عمری کی شادی کے اہم عوامل ہیں۔

سیو دا چلڈرن انٹرنیشنل کی چیف ایگزیکٹیو ہیلے تھوننگ شمٹ نے کہا: 'کم عمری میں شادی سے ناموافق صورت حال کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور اس سے سیکھنے، نشو و نما پانے اور بچہ رہنے کے لڑکیوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔'

انھوں نے مزید کہا: 'جن لڑکیوں کی بہت جلدی شادی ہو جاتی ہے وہ عام طور پر سکول سے محروم رہ جاتی ہیں اور ان کے ساتھ گھریلو استحصال، تشدد اور ریپ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ وہ حاملہ ہو سکتی ہیں اور ایچ آئی وی سمیت دوسرے جنسی امراض کا بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔'

'ایوری لاسٹ گرل' یعنی ’ہر آخری لڑکی تک‘ نامی اس رپورٹ نے دنیا کے ممالک کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ یہ درجہ بندی سکول جانے، کم عمری میں شادی، کم عمری میں حمل، زچگی میں اموات اور پارلیمان میں خواتین کے تحت کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شورش زدہ علاقوں میں بچیوں کے تحفظ کی خاطر کم عمری میں ان کی شادی کر دی جاتی ہے

چاڈ، نائجر، جمہوریہ وسطی افریقہ، مالی اور صومالیہ اس درجہ بندی میں سب سے نیچے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ زدہ علاقے میں لڑکیوں کے بچپن میں دلھن بننے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں کہا گيا ہے کہ کئی پناہ گزین خاندان اپنی بچیوں کو غربت اور جنسی استحصال سے بچانے کے لیے ان کی جلدی شادی کرا دیتے ہیں۔

لبنان میں قیام پذیر شامی پناہ گزین سحر (اصلی نام نہیں) کی 13 سال کی عمر میں ایک 20 سال کے لڑکے سے شادی ہو گئی تھی اور اب وہ 14 سال کی ہیں اور دو ماہ کی حاملہ ہیں۔

اسی طرح سیئرا لیون میں ایبولا کی وبا سے سکول بند ہونے کے نتیجے میں 14 ہزار 19 سال سے کم عمر کی لڑکیاں حاملہ ہو گئيں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے خبردار کیا ہے کم عمری میں شادی کے واقعات آج جہاں 70 کروڑ ہیں وہ سنہ 2030 تک 95 کروڑ ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں