امریکی صدارتی انتخابات پر روسی ہیکرز کے سائے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روسی ہیکروں کی جانب سے امریکی صدارتی امیدواروں کی معلومات چوری کی گئی ہیں

امریکہ میں صدارتی امیدواروں ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن کے مابین اتوار کی شب ہونے والے دوسرے مباحثے کے دوران اس بات پر گرما گرم بحث ہوئی کہ روسی ریاست سے وابستہ ہیکرز امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس سے دو دن قبل امریکہ کی نیشنل انٹلی جنس کے ڈائریکٹر نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس کے اعلیٰ عہدہ دار اس میں ملوث ہیں۔

اس کہانی کا آغاز رواں برس مئی میں اس وقت ہوا جب ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی (ڈی این سی) کو اپنے کمپیوٹرز کے پرسرار رویے پر شک ہوا اور انھوں نے ان کا جائزہ لینے کے لیے ایک سکیورٹی کمپنی سے رابطہ کیا۔

جائزے سے معلوم ہوا کہ ہیکروں کے دو گروہوں نے کمپیوٹروں کو ہیک کر رکھا ہے۔ ایک گروہ نے حال ہی میں سسٹم کو ہیک کیا تھا جبکہ کچھ ہیکرز ایک سال سے اس سسٹم کو ہیک کیے ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption امریکی صدارتی انتخابات نومبر میں ہو رہے ہیں

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کراؤڈ سٹرائیک نامی اس سکیورٹی کمپنی کے چیف سکیورٹی افسر شان ہنری کے کہنا تھا کہ ’ ہمیں معلوم ہوا کہ سسٹم میں کوئی مخالف دراندزی کر رہا ہے اور پیغامات اور امیدواروں کے بارے میں موجود معلومات کو دیکھ رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس مخصوص واقعے کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ اس میں روس کی حکومت ملوث تھی، وہ امریکی صدارتی امیدواروں کے بارے میں انٹیلی جنس اکھٹی کر رہے تھے۔‘

روس کی جانب سے اس طرح کے بڑھتے ہوئے رجحان پر مغربی ممالک کے پہلے ہی تحفظات ہیں۔

برطانیہ کے مواصلات سے متعلق انٹیلی جنس ادارے جی سی ایچ کیو کے سابق سربراہ سر ڈیوڈ اومنڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ ہم اس طرح کے حربوں کا جارحانہ اور کھلے عام استعمال دیکھ رہے ہیں، معلومات کو ہتھیار کے طور پر اور اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

امریکہ کی نیشنل انٹلی جنس کے ڈائریکٹر نے اس حوالے سے کھلے عام بات کی ہے۔

جمعے کی جاری کیے گئے ایک بیان میں ان کیا کہنا تھا کہ ’ روس کی جانب سے اس طرح کی حرکت کوئی نئی بات نہیں ہے، عوامی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے روس یورپ اور ایشیا میں بھی ایسا کر چکا ہے۔

’اس معاملے کی حساس نوعیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ یقیناً اعلیٰ روسی حکام نے اس کی اجازت دی ہوگی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption روس ان الزامات کی ترید کرتا ہے

دوسری جانب روس نے ان الزامات کو ’احمقانہ‘ قرار دیا ہے۔

اس بارے میں ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ جب اس طرح کی معلومات منظر عام پر لائی جاتی ہیں تو اصل معلومات کے ساتھ اپنے مخالفین کو نقصان پہنچانے کے لیے بے بنیاد معلومات بھی شائع کر دی جاتی ہیں۔

امریکی انٹیلیجنس کے بقول اگرچہ ہیکرز روسی سرور استعمال کرتے رہے ہیں لیکن ان کے پاس ایسے ٹھوس شواہد نہیں ہیں جن سے روس کی حکومت کا ملوث ہونا ثابت ہو سکے۔

خیال رہے کہ سرد جنگ کے دوران بھی روس معلومات کے ذریعے اپنے مخالفین پر اثر انداز ہونے کا طریقہ استعمال کرتا رہا ہے۔

کراؤڈ سٹرائیک سکیورٹی کمپنی کے چیف سکیورٹی افسر شان ہنری کے بقول اس حوالے سے ممالک کو سنجیدہ مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر ہم اس طرح جنگ میں آنے والے دنوں میں اضافہ دیکھیں گے اور ایسا کسی کے بھی حق میں نہیں ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں