’دولت اسلامیہ‘ کے سینیئر رہنما کی ہلاکت کی تصدیق

دولت اسلامیہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابومحمد الفرقان تنظیم کے اہم رہنما گروپ شوریٰ کونسل کے بھی رکن تھے

شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ ماہ اپنے سینیئر رہنما ابو محمد الفرقان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

وہ تنظیم کے وزیر اطلاعات اور نشرواشاعت کے شعبے کے سربراہ تھے جس کا کام سرقلم کرنے سمیت پراپیگنڈا وڈیوز تیار کرنا ہے۔

آن لائن جاری کیے گئے ایک بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کب، کہاں اور کیسے ہلاک ہوئے ہیں۔

گذشتہ ماہ امریکی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ وہ شام کے شہر رقہ میں سات ستمبر کو ہونے والی بمباری میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ان کا شمار تنظیم کے بانی رہنماؤں میں ہونا تھا اور انھوں نے تنظیم کے میڈیا کے متعلق کلیدی اداروں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان میں عماق نیوز ایجنسی اور متعدد زبانوں میں پروپیگنڈا میگزین شامل ہیں۔

ان کی اصل نام ولی عادل حسن سلمان الفیاد تھا لیکن وہ الفرقان کے نام سے جانے جاتے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا یہ نام تنظیم کے دیرینہ میڈیا ونگ الفرقان میڈیا فاؤنڈیشن سے تعلق کی وجہ سے پڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ابو محمد الفرقان کی موت کی تصدیق ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے جب ایک ریسرچ کے مطابق تنظیم کے پروپیگنڈہ زوال کا شکار ہے

ابومحمد الفرقان تنظیم کے اہم رہنما گروپ شوریٰ کونسل کے بھی رکن تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی ہلاکت سے پہلے ان کی کوئی خاص عوامی پہچان نہیں تھی اور نہ ہی تنظیم نے کبھی ان کا سرکاری طور پر کہیں ذکر کیا تھا۔

ان کے نام کو اس طرح خفیہ رکھنا تنظیم کی اس پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے جس کے تحت تنظیم کے مرکزی قائدین کا عوامی سطح پر ذکر نہیں کیا جاتا۔

ابو محمد الفرقان کی موت کی تصدیق ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے جب ایک ریسرچ کے مطابق تنظیم کے پروپیگنڈہ زوال کا شکار ہے۔

امریکی فوج کے زیر انتظام قائم ادارے کومبیٹنگ تیررزم سنٹر کے مطابق اس سال اگست کے مہینے میں تنظیم نے 200 سے کم پروپیگنڈا آئٹم جاری کیے جبکہ گزشتہ سال ایک ماہ میں 700 تک آئٹم جاری کیے جاتے رہے ہیں۔

امریکی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ تنظیم کے ایک سینیئر رہنما کی ہلاکت سے اس کی اپنے زیر اثر علاقے کو کنٹرول میں رکھنے اور خطے میں براہِ راست حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور اس کے لیے سرمایہ مہیا کرنے کی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں